واشنگٹن (23 فروری ): امریکا نے ایران سے بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر قطر اور بحرین سے فوجی واپس بلا لیے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جمعہ کو پینٹاگون کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران پر ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکا نے قطر اور بحرین سے فوجی واپس بلا لیے ہیں، یہ اقدام احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق قطر کے العدید ایئر بیس اور بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ سے منسلک تنصیبات سے سیکڑوں اہلکاروں کی منتقلی عمل میں لائی گئی ہے۔ العدید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، جہاں تقریباً 10 ہزار اہلکار تعینات ہیں اور یہ امریکی فضائی کارروائیوں کا بنیادی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں امریکا کے فوجی دستے بدستور موجود ہیں۔ امریکا کو توقع ہے کہ تہران امریکی حملے کے جواب میں خطے میں موجود امریکی افواج کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ جمعرات کے روز اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے ایک خط میں اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن کے سربراہ نے کہا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود دشمن قوت کے تمام اڈے، تنصیبات اور اثاثے جائز اہداف تصور کیے جائیں گے، اور امریکا کسی بھی غیر متوقع اور بے قابو نتائج کی مکمل اور براہِ راست ذمہ داری اٹھائے گا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ