صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے پیشِ نظر اسرائیل میں ہائی الرٹ ہے۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی میٹنگ میں شریک تین ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل ایران پر کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ پر ہے۔ ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ احتجاج ایران کا اندرونی معاملہ ہے لیکن اسرائیلی فوج صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل دفاعی طور پر تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دینے کیلیے بھی تیار ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان گزشتہ سال جون میں 12 روزہ جنگ ہوئی تھی جس میں امریکا نے تہران کی اہم جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے مختصر طور پر شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور قطر میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے تھے۔ اسرائیل نے فی الحال مداخلت کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے تاہم ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں پر اس خدشات کے باعث ان دونوں کے درمیان شدید تناؤ برقرار ہے۔ جمعہ کو دی اکنامسٹ میں شائع ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے ہولناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایران میں جاری احتجاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ایران کے اندر کیا ہو رہا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ