International

ایران پر حملے سے ٹرمپ کابینہ میں اختلاف تھا، سی این این رپورٹ میں انکشاف

ایران پر حملے سے ٹرمپ کابینہ میں اختلاف تھا، سی این این رپورٹ میں انکشاف

واشنگٹن: جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ایران کے ساتھ جنگ کا امکان ظاہر کیا تو امریکی کابینہ اور قریبی لوگ بالخصوص نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آئے تھے۔ سی این این کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور غیر یقینی تنازع شروع کرنے کے خطرات سے امریکی صدر کو آگاہ کیا تھا۔ تاہم، جب یہ واضح ہو گیا کہ ٹرمپ فوجی کارروائی کے حق میں ہیں، تو وینس نے اپنا موقف تبدیل کر لیا۔ جے ڈی وینس نے مشورہ دیا کہ اگر حملہ کرنا ہی ہے تو حملہ تیز اور فیصلہ کن ہونا چاہیے تاکہ امریکی جانی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے اور ایران کو پہلے وار کرنے سے روکا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق جب ٹرمپ جنگ کے آپشن پر غور کر رہے تھے تو جنگ کے حق میں سب سے زیادہ آوازیں وائٹ ہاؤس کے باہر موجود اتحادیوں کی تھیں، جنہوں نے احتیاط کا مشورہ دینے والی خاموش آوازوں کو دبا دیا۔ جے ڈی وینس کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بھی ایران پر حملے کے ممکنہ منفی نتائج سے ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو، جو پہلے ہی وینزویلا کے معاملات میں مصروف تھے، انہوں نے بھی آغاز میں اس کی سرد مہری سے ہی حمایت کی۔ چیف آف اسٹاف سوسی وائلز بھی ملکی ترجیحات اور وسط مدتی انتخابات پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتی تھیں۔ سی این این کی رپورٹ کے مطاطق ان تمام خدشات کے باوجود جب 28 فروری کے حملے سے قبل جنگ ناگزیر نظر آنے لگی، تو وینس اور دیگر اعلیٰ حکام نے مزاحمت کے بجائے صدر کی خواہشات پر عمل درآمد شروع کر دیا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اب امریکی اعلیٰ حکام ایک ایسی طویل مدتی حکمت عملی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آ رہا۔ وینس کی جانب سے جنگ کی حمایت نے ریپبلکن پارٹی کے اس دھڑے کو حیران کر دیا ہے جو غیر ملکی مداخلت کے خلاف ہے، اور اب وینس کی 2028 کی سیاسی ساکھ اس جنگ کے نتائج سے جڑی ہوئی ہے۔ دوسری جانب مارکو روبیو کے لیے بھی یہ صورتحال مشکل ہے، جن کے ایک حالیہ بیان نے کہ ‘اسرائیل نے امریکا کو ایران پر حملے کے لیے اکسایا’ تنازع کھڑا کر دیا تھا جسے بعد میں صدر ٹرمپ کی ناراضگی کے بعد انہیں واپس لینا پڑا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments