امریکی نیشنل انٹیلیجنس کمیونٹی کی تیار کردہ ایک خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملہ بھی تہران میں قائم فوجی اور مذہبی ادارے کو گرانے کا امکان نہیں رکھتا۔ یہ تشخیص ایک طویل فوجی مہم کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں اہم بن گئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایک ایسی جنگ کی بات کر رہی ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ابھی شروع ہوئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کو رپورٹ کے مواد سے واقف تین افراد نے تصدیق کی ہے کہ یہ نتائج ٹرمپ کے ایرانی کمانڈ ڈھانچے کو صاف کرنے اور اپنی پسند کا حکمران نصب کرنے کے اعلان کردہ منصوبے پر شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل مکمل ہوگئی ہے۔ یہ رپورٹ ایران میں سیاسی جانشینی کے ان دو منظرناموں کا جائزہ لیتی ہے جن میں نظام کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والی محدود مہم ہو یا قیادت اور سرکاری اداروں پر وسیع حملہ ہو۔ دونوں صورتوں میں انٹیلیجنس تخمینوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایران میں مذہبی اور فوجی ادارہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کا جواب ان پروٹوکولز پر عمل کرتے ہوئے دے گا جو اقتدار کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منقسم ایرانی اپوزیشن کا اقتدار میں آنا ناممکن ہے۔ نیشنل انٹیلیجنس کمیونٹی تجربہ کار تجزیہ کاروں پر مشتمل ہے جو خفیہ تشخیصات فراہم کرتے ہیں۔ یہ خفیہ تشخیص تمام 18 امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے تخمینوں کا خلاصہ ہوتی ہے۔ واضح رہے فوجی آپریشنز تیزی سے پھیل چکے ہیں۔ ان میں مشرق میں بحر ہند میں آبدوزوں کا استعمال کرتے ہوئے بحری آپریشنز اور مغرب میں نیٹو رکن ترکیہ کے قریب میزائل مقابلے بھی شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا ہے کہ آپریشن ’’ ایپک فیوری ‘‘ کے مقاصد واضح ہیں۔ ان مقاصد میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو تباہ کرنا، ایرانی بحریہ کو ختم کرنا، تہران کی اپنے پراکسیز کو مسلح کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا اور اسے مستقل طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت مکمل طور پر کچلی جا رہی ہے۔ ایرانی اپوزیشن کی اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت کے بارے میں امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے شکوک و شبہات کا تذکرہ پہلے نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹس میں کیا گیا تھا لیکن محدود اور وسیع حملوں کے نتائج کے بارے میں نیشنل انٹیلیجنس کونسل کے تجزیے پہلے سامنے نہیں آئے تھے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی نائب صدر اور ایرانی امور کی محقق سوزان میلونی نے کہا کہ کونسل کا یہ اندازہ کہ نظام کے ادارے باقی رہیں گے، ایران کی نوعیت کے گہرے علم پر مبنی ہے۔ ان کے بقول یہ تشخیص ایرانی نظام، اس کے اداروں اور میکانزم کی درست سمجھ پر مبنی معلوم ہوتی ہے جو طویل عرصے میں مستحکم ہوئے ہیں۔ ایسا نہیں لگتا کہ رپورٹ میں دیگر ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ ایران کے اندر امریکی زمینی افواج بھیجنے یا داخلی بغاوت بھڑکانے کے لیے ایرانی کرد مخالفین کو مسلح کرنے جیسے منظر ناموں کا جائزہ نہیں لیا گیا۔ اس وقت ایران میں اقتدار کی منتقلی کا عمل، جس کی رپورٹ نے پیش گوئی کی تھی، شروع ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے لیکن یہ امریکہ اور اسرائیل کی شدید فضائی اور بحری مہم کے دباؤ میں ہے۔ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا فیصلہ باضابطہ طور پر ماہرین کی کونسل (مجلس خبرگان) نے کیا ہے۔ یہ ایک بااثر مذہبی ادارہ ہے۔ پاسداران انقلاب اور سکیورٹی ایجنسیوں کا بھی اس عمل میں بااثر کردار ہے۔ مرحوم سپریم لیڈر کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کے بارے میں وسیع قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں لیکن ابھی تک اس کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے ۔ بعض رپورٹس کے مطابق کہ پاسداران انقلاب ان کی نامزدگی کی حمایت کرتے ہیں لیکن انہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی سمیت دیگر بااثر شخصیات کی مخالفت کا سامنا ہے۔ جنگ کے دوسرے ہفتے میں داخل ہوتے ہی ٹرمپ ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ اگلے ایرانی رہنما کے انتخاب میں کردار ادا کرنے کی خواہش کا اشارہ بھی دے رہے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نااہل اور کمزورہیں۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ وہ ایسے ایرانی رہنما نہیں چاہتے جو ملک کے جوہری اور میزائل انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کر سکیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک اچھا لیڈر ہو۔ ہمارے پاس کچھ لوگ ہیں جن کے بارے میں میرا خیال ہے کہ وہ یہ کام اچھی طرح کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کے ایران کے اگلے رہنما کی تقرری میں کسی بھی کردار کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی تقدیر کا فیصلہ صرف ایرانی عوام ہی کریں گے۔ موجودہ اور سابق امریکی حکام کا ماننا ہے کہ ابھی تک ایران کے اندر کسی وسیع عوامی تحریک کے اٹھنے یا حکومت یا سکیورٹی اداروں کے اندر کسی بڑی تقسیم کے آثار نہیں ہیں جو حکومت کی تبدیلی کا باعث بن سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ایران میں سیاسی نتائج مسلط کرنے کی صلاحیت اس وقت تک محدود رہے گی جب تک مذہبی اور فوجی ادارہ متحد رہے گا۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کی محقق ہولی ڈگریس نے کہا کہ ٹرمپ کے سامنے جھکنا ایرانی نظام کے رہنماؤں کے ہر اس عقیدے کے منافی ہے جس پر وہ یقین رکھتے ہیں۔ ان رہنماؤں کا نظریاتی نقطہ نظر امریکی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت پر مبنی ہے۔ میلونی نے مزید کہا کہ ایرانی نظام اب بھی ملک کے اندر کنٹرول برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، چاہے باہر اثر و رسوخ ڈالنے کی اس کی صلاحیت کم ہو گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اندر کوئی دوسری ایسی طاقت موجود نہیں ہے جو نظام کے باقی ماندہ اقتدار کا مقابلہ کر سکے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ