International

ایران نے خلیج فارس میں آئل ٹینکرز پر ’ڈرون کشتیوں‘ سے کامیاب حملے شروع کر دیے

ایران نے خلیج فارس میں آئل ٹینکرز پر ’ڈرون کشتیوں‘ سے کامیاب حملے شروع کر دیے

بصرہ (12 مارچ ): ایران نے تیل کی ترسیل کرنے والے بحری جہازوں پر ’ڈرون کشتیوں‘ سے کامیاب حملے شروع کر دیے، دھماکا خیز مواد سے لیس ایرانی کشتیوں نے خلیج فارس میں 2 آئل ٹینکرز کو اڑا دیا۔ ایران کی جانب سے خلیج فارس میں بھی حملے شروع ہو گئے ہیں، عراقی شہر بصرہ کی بندرگاہ کے قریب 2 آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد عراق نے تیل کی بندرگاہوں پر تمام آپریشن روک دیے۔ الجزیرہ کے مطابق دھماکا خیز مواد سے لدی ایرانی کشتیوں نے عراق کے سمندری پانیوں میں دو ایندھن بردار ٹینکروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ان میں آگ لگ گئی اور ایک عملے کا رکن ہلاک ہو گیا، عملے کے 38 ارکان کو بچا لیا گیا۔ اس سے پہلے خلیجی پانیوں میں چار جہازوں پر میزائل سے حملے کیے گئے تھے۔ عراق کی اسٹیٹ آئل مارکیٹنگ آرگنائزیشن نے واقعے پرشدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ کے سمندری مانیٹر نے بھی جہازوں پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ بحرین میں بھی بندرگاہ پر آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا۔ بحرین کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے ایرانی حملے کے بعد ایندھن ذخیرہ کرنے والی تنصیب میں آگ لگ گئی ہے۔ روئٹرز کے مطابق بدھ کی رات عراق کے قریب خلیج میں جن جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں مارشل آئی لینڈز کے جھنڈے والے ٹینکر سیف سی وشنو اور زیفیروس شامل تھے، جنھوں نے عراق سے ایندھن کا سامان لادا تھا۔ دو عراقی بندرگاہی حکام نے بتایا کہ زیفیروس مالٹا کے جھنڈے کے تحت رجسٹرڈ تھا۔ بغداد میں بھارتی سفارت خانے نے آج جمعرا کو بتایا کہ گزشتہ روز عراق کے شہر بصرہ کے قریب ایک امریکی ملکیت کے خام تیل کے ٹینکر پر حملے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہو گیا، سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں سفارتخانے نے کہا کہ سیف سی وشنو کے باقی 15 بھارتی عملے کے ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ عراقی حکام نے دونوں ٹینکروں پر حملے کو تخریب کاری قرار دے دیتے ہوئے کہا یہ عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے کیوں کہ یہ تخریب کاری عراق کی علاقائی سمندری حدود میں ہوا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments