International

ایران نے حالیہ ہنگاموں کی تحقیق کے لیے کمیشن قائم کر دیا

ایران نے حالیہ ہنگاموں کی تحقیق کے لیے کمیشن قائم کر دیا

ایرانی حکومت نے جمعہ کے روز ایک انکوائری کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاکہ ہچھلے پونے دو ماہ کے دوران ہونے والے احتجاج اور حکومت مخالف مظاہروں کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے اور پتا لگایا جا سکے۔ ان ہنگاموں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک، ہزاروں زخمی اور ہزاروں ہی گرفتار ہوئے۔ تاہم ایران کی طرف سے تقریبا پونے دو ماہ بعد انکوائری کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ اس کمیشن کو 'فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی' کے طور پر کام کرنا ہوگا اور اس میں متعلقہ محکموں اور اداروں کے ارکان شامل ہوں گے جو لوگوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے علاوہ دستاویزات بھی تیار کرے گا۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے اس سلسلے میں مقامی میڈیا کو جمعہ کے روز بتایا ہے۔ تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس انکوائری کمیشن کے دائرہ کار میں صرف ہلاکتوں کے بارے میں تفصیلات جمع کرنا ہوگا یا ان مطالبات کا بھی جائزہ لے گا جو ان مظاہروں اور ہنگاموں کی بنیاد بنے تھے۔ ترجمان نے بتایا کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ سامنے آنے پر اسے منظر عام پر لایا جائے گا اور اس کے مطابق قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ جمعرات کے روز حکومت کی ویب سائٹ پر صدر مسعود پیزشکیان کے یہ ریمارکس شائع ہوئے تھے کہ ہم نے ایک کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ ملک میں ہونے والی حالیہ ہنگامہ آرائی کی وجوہات کا جائزہ لے ۔ تاہم صدر کے ریماکس میں کمیٹی کیمزید کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی تھیں۔ ایران میں یہ ہنگامے اور مظاہرے 28 دسمبر کو شروع ہوئے تھے اور 8 جنوری کو ان میں بہت شدت آگئی۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر 3000 سے زائد لوگ مارے گئے۔ ایرانی سیکیورٹی فورس کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر لوگ سیکیورٹی اہلکار اور راہگیر تھے جنہیں موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے ہلاک کیا اور اس دہشت گردی کو امریکہ و اسرائیل کی اشیر باد حاصل تھی۔ انسانی حقوق کے مختلف گروپوں نے اس ایرانی دعوے کو قبول کرنے کی بجائے ایران پر الزام لگایا ہے کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز نے لوگوں کو ہدف بنا کر ہلاک کیا۔ انسانی حقوق کے امریکی ادارے ہرانا نے اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ 7500 لوگوں کو ان مظاہروں کے دوران ہلاک کیا گیا۔ صدر مسعود پیزشکیان نے ویب سائٹ پر اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ہمیں ان بدقسمت واقعات کے ہونے پر شرمندگی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments