ایران اکیلے اپنے دم پر اسرائیل اور امریکہ کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ساتھ اعلیٰ فوجی قیادت کی شہادت کے بعد ایران اسرائیل اور امریکہ کے فوجی ٹھکانوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔ تاہم تہران نے گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ سے سبق لیتے ہوئے اس بار اپنی حکمتِ عملی میں بڑا بدلاؤ کیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران اب ایک ساتھ بڑے حملوں کے بجائے ’’مسلسل اور کنٹرول شدہ‘‘ میزائل اور ڈرون حملوں کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے، تاکہ وقت کے ساتھ دشمن کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو تھکایا جا سکے۔ مغربی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے سے ایران پر حملے شروع کیے ہیں، تہران 25 سے زائد مراحل میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کر چکا ہے۔ ان حملوں کا دائرہ صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہا بلکہ بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق تک پھیل گیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس بار میزائلوں کی تعداد پچھلی جنگ کے مقابلے میں کم ہے، لیکن حملوں کا تسلسل زیادہ ہے۔ ایک سابق اسرائیلی سیکورٹی اہلکار نے اسے ’’ہلکی بارش‘‘ کی حکمتِ عملی قرار دیا، یعنی مسلسل دباؤ ڈال کر دشمن کو تھکا دینا۔ زیادہ تر میزائلوں اور ڈرونز کو اسرائیل اور خلیجی ممالک کے جدید دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ تاہم کچھ پروجیکٹائل یا تو بچ نکلے یا انہیں اتنا خطرناک نہیں سمجھا گیا کہ ان پر مہنگی انٹرسیپٹر میزائلیں خرچ کی جائیں۔ اتوار کو ایرانی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، لیکن اس کے مقابلے میں ایران کے اندر نقصان کہیں زیادہ رہا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور وزیرِ دفاع کی موت نے تہران کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق تل ابیب اور بیت شیمش میں ایرانی میزائلوں کے براہِ راست حملوں میں مجموعی طور پر 10 افراد ہلاک ہوئے۔ ادھر یو اے ای نے بتایا کہ اس پر 150 سے زائد بیلسٹک میزائلوں، 500 سے زیادہ ڈرونز اور دو کروز میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جس میں تین افراد ہلاک اور 58 زخمی ہوئے۔ منامہ، دوحہ اور کویت سٹی سے بھی نقصانات کی اطلاعات ملی ہیں۔ بعض مقامات پر ہوٹلوں اور بندرگاہی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ فوجی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران جان بوجھ کر پہلے اپنی پرانی اور کم جدید میزائلیں استعمال کر رہا ہے، تاکہ تھاڈ، ایرو اور ڈیوڈز سلنگ جیسے امریکہ اور اسرائیل کے مہنگے انٹرسیپٹر سسٹمز کے ذخائر کو ختم کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ انٹرسیپٹر نہایت مہنگے ہوتے ہیں اور انہیں دوبارہ تیار کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ یہ حکمتِ عملی اسی وقت کامیاب ہوگی جب ایران کے میزائل لانچرز محفوظ رہ سکیں گے۔ ایران نے بحرین کے دارالحکومت منامہ کے جُفیر علاقے میں واقع ایک امریکی بحری اڈے پر ڈرون حملے کیے ہیں، جہاں امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ تعینات ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اب ایسے علامتی حملے کرنا چاہتا ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ مکمل طور پر بے بس نہیں ہے۔ ادھر اسرائیلی اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 2,500 بیلسٹک میزائلیں موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران یہ مان کر چل رہا ہے کہ یہ جنگ چند دنوں کی نہیں بلکہ طویل ہوسکتی ہے۔ ایسے میں ان مسلسل حملوں کا ایک مقصد عام شہریوں پر ذہنی دباؤ ڈالنا بھی ہے، تاکہ لوگ ہر وقت بنکروں اور شیلٹرز کے قریب رہنے پر مجبور ہوں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ