International

ایران نے آئی آر جی سی کی نامزدگی کے بعد یورپی افواج کو ’دہشت گرد گروپ‘ قرار دے دیا

ایران نے آئی آر جی سی کی نامزدگی کے بعد یورپی افواج کو ’دہشت گرد گروپ‘ قرار دے دیا

ایران نے یورپی ممالک کی افواج کو "دہشت گرد گروپ" قرار دے دیا ہے، ملک کی پارلیمنٹ کے سپیکر نے اتوار کو کہا۔ یہ یورپی یونین کی جانب سے ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کو اسی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کا ردِ عمل ہے۔ ایرانی قانون سازوں نے قانون سازی کے اجلاس میں پاسدارانِ انقلاب سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اس کی سبز وردی پہن رکھی تھی جہاں انہوں نے "مرگ بر امریکہ"، "مرگ بر اسرائیل" اور "یورپ کو شرم آنی چاہیے" کے نعرے لگائے، سرکاری ٹیلی ویژن کی فوٹیج میں دکھایا گیا۔ بلاک کے "غیر ذمہ دارانہ اقدام" پر شدید تنقید کرتے ہوئے سپیکر محمد باقر غالباف نے کہا، "آئی آر جی سی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے خلاف انسدادی اقدامات کے قانون کی شق سات کے تحت یورپی ممالک کی افواج کو دہشت گرد گروہ تصور کیا جاتا ہے۔" یہ واضح نہیں ہے کہ اس فیصلے کا فوری اثر کیا ہو گا۔ یہ قانون پہلی بار 2019 میں منظور کیا گیا تھا جب امریکہ نے آئی آر جی سی کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ اتوار کا اجلاس مرحوم روح اللہ خمینی کی جلاوطنی سے واپسی کی 47 ویں برسی کے موقع پر منعقد کیا گیا جنہوں نے 1979 میں اسلامی جمہوریہ کی بنیاد رکھی۔ آئی آر جی سی ایرانی فوج کی نظریاتی شاخ ہے جس کا کام اسلامی انقلاب کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ ان پر مغربی حکومتوں نے حالیہ احتجاجی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا الزام لگایا ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تہران نے اس تشدد کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مشتعل کردہ "دہشت گردانہ کارروائیاں" قرار دیا ہے۔ یورپی یونین نے جمعرات کو مظاہروں کے خلاف ردِ عمل پر ادارے کو "دہشت گرد تنظیم" کے طور پر درج کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ قدم امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے نافذ کردہ ایسے ہی اقدام سے مماثلت رکھتا ہے۔ غالباف نے کہا، یہ فیصلہ جو "امریکی صدر اور صیہونی حکومت کے رہنماؤں کے حکم کی تعمیل میں کیا گیا، اس نے مستقبل کے عالمی نظام میں یورپ کے غیر متعلق ہونے کا عمل تیز کر دیا ہے۔" نیز کہا، اس اقدام سے آئی آر جی سی کے لیے ملکی حمایت میں صرف اضافہ ہوا ہے۔ قانون سازی کا اجلاس ایسے وقت میں آیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ مظاہروں پر تہران کے ردِ عمل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مداخلت کی دھمکی دینے پر آمادہ کیا اور انہوں نے ایک طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں بھیج دیا۔ تاہم حالیہ دنوں میں فریقین نے اصرار کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ایران کی اعلیٰ ترین قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے ہفتے کے روز کہا کہ "میڈیا کی مصنوعی پیش کردہ جنگ کے حد سے زیادہ چرچے کے برعکس مذاکرات کے لیے منظم انتظامات آگے بڑھ رہے ہیں۔" ٹرمپ نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ مذاکرات ہو رہے تھے لیکن اپنی سابقہ دھمکیاں واپس نہیں لیں۔ انہوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ایران "ہم سے بات کر رہا ہے اور دیکھیں گے کہ آیا ہم کچھ کر سکتے ہیں ورنہ دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ ہمارا ایک بڑا بحری بیڑا وہاں پہنچ رہا ہے۔" ٹرمپ نے پہلے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ایران امریکی فوجی کارروائی کا سامنا کرنے کے بجائے اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں پر معاہدہ کرے گا۔ دریں اثناء تہران نے کہا ہے کہ اگر اس کی میزائل اور دفاعی صلاحیت ایجنڈے میں شامل نہ ہو تو وہ جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے دفتر کے مطابق انہوں نے ہفتے کے روز اپنے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی سے فون پر گفتگو کے دوران کہا، "جنگ نہ ایران، نہ امریکہ اور نہ ہی خطے کے مفاد میں ہو گی۔" قطری وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آلِ ثانی جو وزیرِ خارجہ بھی ہیں، نے "کشیدگی میں کمی" کے لیے ہفتے کے روز ایران میں ایک ملاقات میں گفتگو کی۔ ایک 43 سالہ گھریلو خاتون فیروزہ نے کہا کہ وہ حالیہ کشیدگی پر "بہت پریشان اور خوفزدہ" تھیں۔ انہوں نے اپنا پورا نام نہیں بتایا۔ "حال ہی میں میں نیند آنے تک خبریں دیکھتی رہتی ہوں۔ بعض اوقات میں آدھی رات کو جاگ کر اپ ڈیٹس چیک کرتی ہوں۔"

Source: Social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments