International

ایران: مظاہروں پر ایرانی سیکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن جاری، مظاہروں کی شدت میں کمی

ایران: مظاہروں پر ایرانی سیکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن جاری، مظاہروں کی شدت میں کمی

ایران میں جمعہ کے روز بھی مظاہرین کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا بدترین کریک ڈاؤن جاری رہا۔ انسانی حقوق گروپ نے اس کریک ڈاؤن کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے جمعہ کے روز دی گئی اس تازہ دھمکی کے باوجود کہ مظاہرین کی ہلاکتیں جاری رہیں تو امریکہ مداخلت کر سکتا ہے، سیکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ صدر ٹرمپ اس سے پہلے بھی کئی بار ایران کو براہ راست حملوں اور مداخلت کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ تاہم بدھ کے روز سے پیدا ہونے والی نئی صورت حال میں بظاہر امریکہ نے ایران پر حملے کے ارادے میں کمی کر دی ہے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے یہ کہا ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں کریک ڈاؤن کو نرم کر دیا گیا ہے۔ امریکہ کے اتحادیوں سعودی عرب اور قطر نے متواتر سفارتی کوششیں کر کے اسی ہفتے کے دوران امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ نیز امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اس طرح کی کوئی کارروائی ایران کے خلاف ہوئی تو اس سے پورے مشرق وسطیٰ پر ہی نہیں امریکہ پر بھی اثرات منفی ہوں گے۔ اس بارے میں جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کی صورت حال کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں اور وہ ایران میں حالات و واقعات کی مانیٹرنگ میں مصروف ہیں۔ نیز ان کی ٹیم بھی یہ کام کر رہی ہے۔ جس نے ایران کو انتباہ کیا ہے کہ اگر اس نے مظاہرین کو قتل کرنا جاری رکھا تو اسے سنگین مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں اندازہ ہے کہ 800 کے قریب دی جانے والی پھانسیاں روک دی گئی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں ان کی پریس سیکرٹری کارولین لیویٹ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ کے سامنے تمام آپشنز ابھی بھی کھلی ہیں۔ یاد رہے ایران میں احتجاج کی موجودہ لہر 28 دسمبر سے جاری ہے۔ یہ احتجاج شروع میں افراط زر اور مہنگائی کی سطح میں غیر معمولی اضافے کے خلاف ایران کے تاجروں اور دکانداروں نے شروع کیا تھا۔ کیونکہ 1979 میں شہنشاہ ایران کےاقتدار کے خاتمے کے بعد سے لے کر اب تک ایران کی مذہبی رجیم کی پالیسیوں سے ناراض امریکہ و یورپ نے اس پر مسلسل اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے ایرانی معیشت تباہی کے آخری کنارے پر پہنچ چکی ہے۔ ایرانی ریال کی قدر میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے جو اس سے پہلے کبھی تصور نہیں کی جاتی تھی۔ افراط زر کا گراف انتہائی اوپر چلا گیا ہے اور مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ اسی صورت حال کے خلاف 28 دسمبر سے تاجر اور دکاندار ہڑتال کر رہے ہیں۔ اہم بات ہے کہ مہنگائی سے پسنے والے اہم طبقے یعنی صارفین کی بجائے احتجاج کی کال تاجروں اور دکانداروں نے دی ہیں۔ دوسری جانب ایران میں کردوں سے متعلق انسانی حقوق گروپ ہینگا نے کہا ہے کہ پچھلے اتوار کے روز سے کہیں احتجاج نظر نہیں آرہا۔ جبکہ سیکیورٹی فورسز نے سیکیورٹی کے ماحول کو اب بھی انتہائی متحرک اور غیر معمولی حد تک سخت رکھا ہوا ہے۔ ناروے میں قائم اس این جی او نے 'روئٹرز' کے ساتھ اپنے تبصرے میں کہا ہمارے غیر جانبدار ذرائع اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ فوج اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہروں اور قصبوں میں موجودگی نظر آتی ہے۔ اسی طرح مختلف جگہوں پر اب بڑے مظاہرے نظر نہیں آرہے ہیں۔ شمالی شہر کے ایک مقامی رہائشی نے کہا گلیوں میں اب پہلے کے مقابلے میں بہت سکون محسوس ہوتا ہے اور مظاہرے نہیں ہو رہے ہیں۔ اس شہری نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے معذرت کی۔ تاہم بعض علاقوں میں اب بھی بد امنی کے واقعات کے پیش آنے کی اطلاعات موجود ہیں۔ ناروے سے متعلق انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ ایک نرس کو براہ راست فائرنگ سے ہلاک کیا گیا۔ یہ واقعہ کاراج میں پیش آیا۔ جو ایران کے مغربی حصے میں واقع ہے۔ تاہم مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو غیر جانبدار ذرائع سے اس واقعے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ریاستی خبر رساں ادارے 'تسنیم' کے مطابق بعض فسادیوں نے مقامی تعلیمی دفتر کو آگ لگا دی۔ یہ واقعہ جمعرات کے روز اصفہان صوبے میں پیش آیا تھا۔ ایک ضعیف العمر شہری نے کہا کہ احتجاج جاری ہے اگرچہ اس میں اب پہلے جیسی شدت نہیں رہی ہے لیکن شمال مغربی علاقوں میں کردوں کا احتجاج جاری ہے۔ اس ضعیف العمر خاتون نے کہا اس سے پہلے جس طرح کے پرتشدد واقعات ہوئے ہیں میں نے ماضی میں کبھی نہ دیکھے تھے۔ سرکاری پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں امن قائم ہو رہا ہے۔ امریکہ میں قائم ایک انسانی حقوق کے ادارے 'ہرانا' نے کہا کہ بدھ کے روز سے اب تک ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور یہ کل ہلاکتیں 2641 ہوگئی ہیں۔ جن میں 2478 مظاہرین ہیں جبکہ 163 سرکاری اہلکار ہیں۔ اس امریکی انسانی حقوق ادارے کی طرف سے جاری کردہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی 'روئٹرز' غیر جانبدارانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ ایرانی حکام نے پچھلے ہفتے 'روئٹرز' کو بتایا تھا کہ اب تک 2000 لوگ مارے گئے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ بد امنی انتہائی حد تک شر انگیزی لیے ہوئے تھی۔ جس میں ایران کے غیر ملکی دشمنوں نے مظاہرین کو ہر طرح سے مدد کی تھی۔ مظاہرین کو اسلحہ تک فراہم کیا گیا۔ تاکہ وہ دہشت گردانہ کارروائیاں کر سکیں۔ خبر رساں ادارے 'تسنیم' کے مطابق بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی گئی ہیں جن میں حالیہ فسادات کی قیادت کرنے والے افراد کی بھی بڑی تعداد ہے اور زیادہ تر لوگوں کا تعلق مغربی صوبہ کرمان شاہ سے ہے۔ 'تسنیم' کے مطابق پانچ افراد کو ایک گیس سٹیشن پر حملہ کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔ اسی طرح بسیج کے مرکز پر بھی حملہ کرنے والے شر پسندوں کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق جمعہ کے روز ان سیکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی جنہیں مظاہروں میں شامل دہشت گردوں نے نشانہ بنایا تھا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments