سعودی عرب ایران کیخلاف امریکا کے فوجی حملے کا حصہ بنے گا یا نہیں، اس سلسلے میں سعودی حکومت کا اہم فیصلہ سامنے آگیا ہے۔ سعودی میڈیا کے مطابق سعودی عرب نے تہران کو یقین دہانی کرادی ہے کہ وہ ایران کیخلاف کسی فوجی حملے کا حصہ نہیں بنیں گے، سعودی عرب نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اس کیخلاف کسی امریکی کارروائی کا حصہ نہیں بنےگا۔ فضائی حدود کے استعمال سے متعلق سعودی میڈیا نے مزید بتایا کہ سعودی عرب امریکی حملے میں اپنی فضائی حدود یا سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایران کو نشانہ بناتا ہے تو ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکا ایران میں جاری احتجاج میں مداخلت کرنے کی دھمکیوں پر عمل کرتا ہے تو ایران امریکی اڈوں پر حملہ کردے گا۔ سینئر ایرانی حکام نے کہا کہ تہران نے علاقائی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کو ایران پر حملہ کرنے سے روکیں۔ خیال رہے کہ ایران نے امریکا پر واضح کیا ہے کہ اگر حملہ ہوا تو ہم مشرقی وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گے، سینئر ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تہران نے اس سلسلے میں ہمسایہ ممالک کو خبردار کردیا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ