نائب صدر جے ڈی وینس کی زیر قیادت سینئر معاونین نے ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف حملے سے پہلے سفارتکاری کو موقع دینا چاہیے۔ امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کی پیشکش پر غور کررہا تھا، جبکہ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دینے پر غور کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے پر ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے۔ فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتکاری کو اولین ترجیح دیتے رہے ہیں، تاہم اگر وہ ضروری سمجھیں تو فوجی طاقت کے استعمال سے نہیں ہچکچائیں گے اور اس حقیقت سے ایرانی حکومت بخوبی آگاہ ہے۔ وائٹ ہاؤس ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ آئندہ کیا قدم اٹھائیں گے، اس کا علم صرف انہیں ہی ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ