International

ایران کی سلامتی میں مداخلت کرنے والا ہر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا: شمخانی کا ٹرمپ کو انتباہ

ایران کی سلامتی میں مداخلت کرنے والا ہر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا: شمخانی کا ٹرمپ کو انتباہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں پُر امن مظاہرین کے تحفظ کے لیے اپنے کے تیار ہونے کے اعلان کے فوراً بعد ... ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی جواب دینے کے لیے میدان میں آ گئے۔ انہوں نے آج جمعہ کے روز اپنے "ایکس" اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں اشارہ کیا کہ "ایرانی عوام عراق اور افغانستان سے لے کر غزہ کی پٹی تک امریکی بچاؤ کے تجربے کو اچھی طرح جانتے ہیں"۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ "واہیات بہانوں سے ایران کی سکیورٹی میں مداخلت کرنے والا یا اس کے قریب آنے والا ہر ہاتھ پہنچنے سے پہلے ہی کاٹ دیا جائے گا اور اس کا جواب کڑی مزاحمت کے ساتھ اور مہنگا ہو گا"۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "ایران کی قومی سکیورٹی سرخ لکیر ہے، اور یہ مہم جوئی پر مبنی ٹویٹس کا موضوع نہیں ہے"۔ ان کا اشارہ آج ہی کے دن ٹرمپ کی جانب سے "ٹروتھ سوشل" پر کی جانے والی پوسٹ کی طرف تھا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کے درمیان ایران میں بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے باعث جاری حالیہ احتجاج کے حوالے سے دھمکیوں کا تبادلہ ہوا۔ ٹرمپ نے پہلے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر متنبہ کیا تھا کہ "اگر ایرانی حکام نے پُر امن مظاہرین کو قتل کیا یا ان پر تشدد کیا تو امریکہ انہیں بچانے کے لیے مداخلت کرے گا"۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ جس کے کچھ ہی دیر بعد لاریجانی نے رد عمل دیا۔ ایرانی پارلیمان کے سابق اسپیکر علی لاریجانی اب سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکہ مظاہروں کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے خطے میں امریکی افواج کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ "امریکی عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ٹرمپ ہی نے اس مہم جوئی کا آغاز کیا ہے، لہٰذا انہیں اپنے فوجیوں کی حفاظت کرنی چاہیے"۔ دوسری جانب ایرانی وزیر دفاع میجر جنرل عزیز نصیر زادہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی افواج "بغیر کسی رعایت کے خطرات کا جواب دیں گی"۔ انہوں نے ایرانی سرکاری میڈیا ایجنسی کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ "ہماری صلاحیتیں آج اس بارہ روزہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ملک میں نظام کو نشانہ بنانے والے کسی بھی خطرے کا جواب مسلح افواج کی جانب سے انتہائی سختی اور حزم و تدبر کے ساتھ دیا جائے گا، اور اس میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی"۔ اسی طرح، وزارت خارجہ نے ایک بیان میں واضح کیا کہ "ایرانی کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے"۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام نے گذشتہ روز (جمعرات) دار الحکومت تہران میں "امن عامہ میں خلل ڈالنے" کے الزام میں 30 افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ تقریباً 5 دن قبل شروع ہونے والے مظاہروں کا دائرہ ملک کے دیہی علاقوں تک پھیل گیا ہے۔ ان میں تہران سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع صوبہ لرستان کا شہر ازنا، صوبہ چہار محال و بختیاری کا شہر لوردیگان اور صوبہ اصفہان کا فولاد شہر شامل ہیں۔ حکام کے مطابق، سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے اعلان کیا کہ حکام یونینز اور تاجروں کے نمائندوں سے براہ راست بات چیت کریں گے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ آج بھی کچھ علاقوں میں مظاہرے دہرائے گئے، جہاں صوبہ سیستان و بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور "آمر مردہ باد" جیسے نعرے لگائے۔ یہ احتجاج 2022 کے بعد ملک میں ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے ہیں، جب پولیس کی حراست میں 22 سالہ نوجوان خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ملک گیر احتجاجی لہر اٹھی تھی۔ یاد رہے کہ ایرانی معیشت مغربی پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور 2025 کے دوران ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر تقریباً نصف گر چکی ہے، جبکہ گذشتہ دسمبر میں افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح 42.5 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments