International

ایران کی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تنبیہ

ایران کی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تنبیہ

ایک ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران ’جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے گا اسے آگ لگا دے گا۔‘ یہ انتباہ ابراہیم جباری کی جانب سے آیا ہے، جو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر ان چیف کے مشیر ہیں، اور انھوں نے یہ بات سرکاری ٹی وی پر کہی۔ انھوں نے تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور جہازوں کو خبردار کیا کہ ’انھیں اس علاقے میں نہیں آنا چاہیے۔ وہ یقیناً ہماری طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کریں گے۔‘ جباری نے یہ بھی کہا کہ امریکی ’اس خطے کے تیل کے پیاسے ہیں‘ اور ایران ’ان کی پائپ لائنوں پر حملہ کرے گا اور اس علاقے سے تیل برآمد ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔‘ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم جہاز رانی کے راستوں میں سے ایک ہے اور تیل کی ترسیل کی سب سے اہم گزرگاہ ہے۔ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور گیس اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے بیچ واقع آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان ایک سمندری راستہ موجود ہے۔ اس میں داخلے اور اخراج کے مقامات تو تقریباً 50 کلومیٹر چوڑے ہیں لیکن درمیان میں سب سے تنگ مقام پر اس کی وسعت تقریباً 40 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔ یہ سمندری راستہ اتنا ہی گہرا ہے کہ بڑے تجارتی جہاز اس کے وسط میں ہی سفر کر سکتے ہیں یعنی بڑے آئل ٹینکر تقریبا 10 کلومیٹر چوڑے چینل میں ہی سفر کر سکتے ہیں۔ 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران اور عراق کی جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تیل کی رسد اور برآمدات کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی اور اس تنازع کو اسی وجہ سے تاریخ میں ’ٹینکر جنگ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اور اسی لیے بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کے فلیٹ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کرے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments