ایرانی نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید کی ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کچھ ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو اس مقصد کے لیے وہاں موجود تھیں۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’کچھ ممالک نے ہم سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے بات چیت کی تھی اور ہم نے ان کے ساتھ تعاون کیا ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جن ممالک نے ایران کے خلاف ’جارحیت میں حصہ‘ لیا انھیں ’یہاں سے گزرنے کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔‘ ماجد تخت روانچی کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ جنگ کو دوبارہ ان پر ’مسلط‘ نہ کیا جا سکے۔ ’جب گذشتہ برس جون میں جنگ شروع ہوئی تو 12 دن کے بعد حملے بند ہو گئے تھا لیکن پھر آٹھ، نو مہینے بعد انھوں (امریکہ اور اسرائیل) نے خود کو یکجا کیا اور دوبارہ حملے کیے۔‘
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ