International

ایران کے خلاف طاقت کا استعمال خطے میں افراتفری کا باعث بنے گا: روس

ایران کے خلاف طاقت کا استعمال خطے میں افراتفری کا باعث بنے گا: روس

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کو بتایا کہ ماسکو ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ کریملن مذاکرات میں اس معاملے پر ان کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ محمد بن زاید النہیان روس کے سرکاری دورے کے آغاز پر آج ماسکو پہنچے۔ متحدہ عرب امارات نے جمعہ اور سنیچر کو یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے سہ فریقی مذاکرات کی میزبانی کی، جن میں روس، یوکرین اور امریکہ کے نمائندے شریک ہوئے۔ اگلے ہفتے ابوظہبی میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے والا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کے خلاف طاقت کا کوئی بھی حربہ خطے میں ’افراتفری‘ پیدا کر سکتا ہے اور خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ دمتری پیسکوف نے یہ ریمارکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ایک دن بعد دیے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا اور اپنے جوہری پروگرام پر معاہدے تک پہنچنا ہوگا، بصورت دیگر اسے امریکی فوجی کارروائی کے امکان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ’تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا امکان باقی ہے‘ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ’مذاکرات کی صلاحیت ابھی ختم نہیں ہوئی‘ اور خبردار کیا کہ طاقت کا کوئی بھی حربہ خطے میں افراتفری اور خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ واشنگٹن کے ساتھ سمجھوتے پر نہ پہنچا تو 12 روزہ جنگ میں امریکہ کا اگلا حملہ ’پچھلے سے کہیں زیادہ شدید‘ ہوگا۔ ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران نے کہا کہ کسی بھی جارحیت کا ردعمل ’پہلے سے زیادہ تکلیف دہ‘ ہوگا۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments