International

ایران اسرائیل جنگ کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑا اضافہ

ایران اسرائیل جنگ کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑا اضافہ

لندن : امریکہ اسرائیل ایران جنگ کے آغاز کے بعد تیل کی عالمی منڈی میں بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے جس اثرات عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑیں گے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رؤئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اس کے اثرات تیل کی عالمی منڈیوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں، ایران میں جاری جنگی صورتحال نے عالمی آئل مارکیٹ کو گزشتہ کئی دہائیوں کے سب سے بڑے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ایران پر حملوں اور تہران کی جوابی کارروائیوں نے نہ صرف ایک بڑے علاقائی جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کو بھی شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر تیل کی پیداوار یا ترسیل کے راستوں کو نقصان پہنچا تو عالمی خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 10 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کرسکتی ہیں۔ اتوار کو اوور دی کاؤنٹر ٹریڈ میں برینٹ کروڈ کی قیمت میں تیزی دیکھی گئی، ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز مزید کچھ عرصے کیلیے بند رہتی ہے تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ توانائی اور ریفائننگ کے ادارے آئی سی آئی ایس کے ڈائریکٹر اجے پرمار کے مطابق حالیہ جنگ کے علاوہ اصل مسئلہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے اور اس کی مکمل بندش کی صورت میں روزانہ 80 سے 100 لاکھ بیرل خام تیل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق ایران اسرائیل کشیدگی کی وجہ سے سپلائی لائن متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا قوی امکان ہے۔ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب یا اس سے بھی اوپر جاسکتی ہیں۔ تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے جہازوں کو خبردار کیے جانے کے بعد بیشتر ٹینکر مالکان، آئل کمپنیاں اور تجارتی ادارے آبنائے ہرمز کے راستے خام تیل، ایندھن اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل معطل کرچکے ہیں۔ دنیا کے 20 فیصد سے زائد تیل کی ترسیل اسی آبی گذرگاہ سے ہوتی ہے۔ دوسری جانب تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد اوپیک پلس نے اپریل سے یومیہ 2 لاکھ 6 ہزار بیرل پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا ہے تاہم یہ اضافہ عالمی طلب کے مقابلے میں 0.2 فیصد سے بھی کم ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی معیشت کو مہنگائی اور توانائی بحران کے نئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

Source: Social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments