واشنگٹن (23 فروری ): ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خدشات بڑھنے لگے دوسرے امریکی بحری بیڑے کے بعد اردن ایئربیس پر بھی 60 لڑاکا طیارے کھڑے کر دیے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکا کا دوسرا بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہو گیا ہے جب کہ اردن کے ایئربیس پر بھی 60 لڑاکا طیارے کھڑے کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکی جنگی جہازوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط دفاعی نظام تیار کر لیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دفاعی نظام میں مختلف قسم کے میزائل، ڈرون، سب میرینز اور بارودی سرنگیں شامل ہیں۔ دریں اثنا امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کہتے ہیں کہ ایران شاید ایٹم بم بنانے سے ایک ہفتہ دور ہے، لیکن ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو میں اسٹیو وٹکوف کا کہنا تھا کہ ایران 60 فیصد سے زیادہ افزودگی تک پہنچ چکا ہے۔ ایران کہتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی سویلین مقاصد کیلیے ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ مذاکرات سے پہلے صدرٹرمپ نے بتا دیا تھا کہ یورینیم کی افزودگی ہماری ریڈ لائن ہے۔ صدرٹرمپ اس بات پر حیران ہیں کہ ایرانیوں نے شدید دباؤ کے باوجود ابھی تک ہتھیار کیوں نہیں ڈالے۔ اتنے دباؤ میں وہ ہمارے پاس کیوں نہیں آئے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ