برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو ایک سنگین قیادت بحران کا سامنا ہے، جس کے باعث ویسٹ منسٹر میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ اگر اسٹارمر مستعفی ہوتے ہیں تو ان کا جانشین کون ہو سکتا ہے۔ زیرِ بحث ناموں میں سب سے نمایاں نام برطانوی ہوم سیکریٹری شبانہ محمود کا ہے، جو نہ صرف اسٹارمر کی قریبی اتحادی ہیں بلکہ ممکنہ طور پر برطانیہ کی پہلی مسلم وزیر اعظم بھی بن سکتی ہیں۔ لیبر پارٹی کے اندرونی حلقوں میں شبانہ محمود کو ایک مضبوط اور سنجیدہ قیادت کے امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس منصب تک پہنچتی ہیں تو یہ برطانوی سیاسی تاریخ کا ایک غیر معمولی اور تاریخی لمحہ ہوگا۔ ان کی سیاسی ابھار پر تازہ توجہ اس وقت مرکوز ہوئی ہے جب امریکہ میں جاری ایپسٹین سے متعلق خفیہ فائلز کے انکشاف نے یورپ سمیت کئی ممالک کی حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے اثرات برطانیہ کی سیاست تک بھی پہنچے ہیں۔ 45 سالہ شبانہ محمود پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل اور لیبر پارٹی کی سینئر رہنما ہیں۔ وہ ایک مضبوط مقرر، نظم و ضبط کی حامل سیاست دان اور پارٹی کے دائیں بازو سے وابستہ سمجھی جاتی ہیں۔ انہیں طویل عرصے سے کیئر اسٹارمر کی قابلِ اعتماد ساتھی تصور کیا جاتا رہا ہے۔ شبانہ محمود کی پیدائش برمنگھم میں ہوئی۔ ان کے والدین، زبیدہ اور محمود احمد، کا تعلق پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میرپور سے ہے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے لنکن کالج سے 2002 میں قانون کی تعلیم مکمل کی، جبکہ 2003 میں انس آف کورٹ اسکول آف لا سے بار ووکیشنل کورس مکمل کیا۔ بعد ازاں انہوں نے بطور بیرسٹر عملی وکالت بھی کی۔ 2010 میں وہ برطانوی پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوئیں اور رشانہ علی اور یاسمین قریشی کے ساتھ برطانیہ کی پہلی مسلم خواتین اراکینِ پارلیمنٹ میں شامل ہوئیں۔ 2025 میں ہوم سیکریٹری بننے کے بعد ان کے دائرۂ اختیار میں سرحدی سکیورٹی، پولیسنگ اور امیگریشن نظام شامل رہا۔ شبانہ محمود کا سیاسی مؤقف دوہری نوعیت کا حامل ہے، جو بعض اوقات متنازع بھی رہا ہے۔ ایک مسلمان رہنما کے طور پر انہیں لیبر پارٹی کے لیے مسلم ووٹرز اور فلسطین کے حامی حلقوں سے دوبارہ رابطے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ان ووٹرز کے ساتھ جو اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیوں پر پارٹی کے مؤقف سے ناراض ہو گئے تھے ، جنہیں بعض عالمی ادارے نسل کشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاہم، بطور ہوم سیکریٹری ان کا امیگریشن سے متعلق ریکارڈ سخت گیر رہا ہے۔ انہوں نے مستقل رہائش کے حصول کو مزید مشکل بنانے کی تجاویز پیش کیں، یہ کہتے ہوئے کہ ’’برطانیہ میں مستقل قیام کوئی حق نہیں بلکہ ایک مراعت ہے۔‘‘ ان کی جانب سے بیشتر تارکینِ وطن کارکنوں کے لیے رہائشی مدت پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کرنے کی تجویز نے لیبر پارٹی کے اندر بھی بے چینی پیدا کی ہے۔ شبانہ محمود پر بڑھتی توجہ کی بنیادی وجہ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے لیے حالیہ ہفتہ انتہائی تباہ کن ثابت ہونا ہے، جس کے بعد ان کی قیادت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، حتیٰ کہ ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی۔ بحران کی جڑ پیٹر مینڈلسن کی امریکہ میں برطانوی سفیر کے طور پر تقرری بنی، جن کے ماضی میں بدنام زمانہ فنانسر اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے روابط سامنے آئے۔ ایپسٹین 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پایا گیا تھا۔ معاملہ اس وقت مزید بگڑ گیا جب وزیر اعظم کے چیف آف اسٹاف مورگن میک سویینی نے تقرری کی مکمل ذمہ داری لیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔ اگرچہ یہ قدم اسٹارمر کو بچانے کے لیے اٹھایا گیا، تاہم لیبر اراکینِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اس ’’غلطی‘‘ کی اصل ذمہ داری وزیر اعظم کو خود قبول کرنی چاہیے، جیسا کہ بلومبرگ نے رپورٹ کیا۔ اشتہار کم ترین سطح پر پہنچتی مقبولیت کے باعث، اسٹارمر کے بعض قریبی معاونین نے نجی طور پر کہا ہے کہ اس بات کے امکانات ’’ففٹی۔ففٹی‘‘ ہیں کہ آیا وہ اس ہفتے اپنی قیادت بچا پائیں گے یا نہیں۔ شبانہ محمود کا نام ایسے وقت میں ابھر کر سامنے آ رہا ہے جب لیبر پارٹی داخلی خلفشار، خارجہ پالیسی کے دباؤ اور اخلاقی ساکھ کے بحران سے گزر رہی ہے۔ اگر اسٹارمر کی قیادت ختم ہوتی ہے تو پارٹی کو ایک ایسے چہرے کی ضرورت ہوگی جو نہ صرف ادارہ جاتی اعتماد بحال کرے بلکہ ووٹرز کے بکھرے ہوئے حلقوں کو بھی دوبارہ متحد کر سکے۔ اس تناظر میں شبانہ محمود کی قانونی مہارت، انتظامی تجربہ اور علامتی حیثیت انہیں ایک غیر معمولی امیدوار بناتی ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ