International

ایپسٹین دھماکہ: برطانوی سفیر مستعفی، بینک ٹرانسفر اور شرمناک تصویر نے طوفان کھڑا کر دیا

ایپسٹین دھماکہ: برطانوی سفیر مستعفی، بینک ٹرانسفر اور شرمناک تصویر نے طوفان کھڑا کر دیا

جیفری ایپسٹین کی دستاویزات نے واشنگٹن میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر ماندلسون کو لاڈز کونسل سے باہر کر دیا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ نے کل منگل اعلان کیا ہے کہ مانڈلسن بدھ کے روز اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ یہ فیصلہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ان نئی دستاویزات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں جنسی جرائم کے مرتکب ارب پتی جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے تعلقات کا انکشاف ہوا ہے۔ لارڈز کونسل کے سربراہ کے مطابق پارلیمنٹ کے سیکرٹری کو منگل کے روز لارڈ مانڈلسن کا مکتوب موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے چار فروری سنہ 2026 ء سے ایوان چھوڑنے کے ارادے سے آگاہ کیا ہے۔ اس سے قبل ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مانڈلسن کی لارڈز کونسل کی رکنیت ختم کرنے کے لیے قانون سازی کا حکم دیا تھا۔ مانڈلسن کو سنہ 2008ء میں اس ایوان کا رکن نامزد کیا گیا تھا لیکن جنوری سنہ 2025 کے آخر میں واشنگٹن میں سفیر مقرر ہونے پر انہوں نے رخصت لے لی تھی۔ تاہم ایپسٹین سے تعلقات کے انکشاف پر انہیں ستمبر میں سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ برطانوی لارڈز کونسل پارلیمنٹ کا ایوانِ بالا ہے۔ اسی طرح فنانشل ٹائمز کی جانب سے افشا کی گئی ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ مانڈلسن نے ایپسٹین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ جے پی مورگن بینک کے سربراہ سے کہیں کہ وہ اس وقت کے برطانوی وزیر خزانہ کو معمولی سی دھمکی دیں تاکہ بینک ملازمین کے بونس پر ٹیکس میں کٹوتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ بینکنگ ریکارڈ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین نے سنہ 2003 اور سنہ 2004 میں مانڈلسن سے وابستہ اکاؤنٹس میں تین اقساط میں کل 75 ہزار ڈالر منتقل کیے تھے۔ دوسری جانب مانڈلسن نے جو اس وقت رکن پارلیمنٹ تھے کہا ہے کہ انہیں ان رقوم کی منتقلی کے بارے میں کچھ یاد نہیں اور نہ ہی وہ ریکارڈ کی درستی کے بارے میں جانتے ہیں۔ اتوار کے روز انہوں نے ایک ایسی تصویر پر بھی تبصرہ کیا جس میں وہ صرف قمیض اور زیرِ جامہ میں ایک خاتون کے ساتھ نظر آ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ اس خاتون کو پہچاننے سے قاصر ہیں جس کا چہرہ امریکی حکام نے چھپا دیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جمعہ کو جاری دستاویزات کے مطابق شبہ ہے کہ مانڈلسن نے گورڈن براؤن کی حکومت میں وزیر تجارت کی حیثیت سے جیفری ایپسٹین کو خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سنہ 2009ء میں معاشی صورتحال پر وزیر اعظم کو بھیجی گئی ایک اندرونی ای میل بھی ایپسٹین کو ارسال کی تھی۔ وزیر اعظم سٹارمر کے ترجمان نے مانڈلسن کے اس بیان کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب عوام سیاست دانوں کو یہ کہتے سنتے ہیں کہ انہیں بڑی رقوم کی وصولی یاد نہیں تو یہ واقعی صدمہ پہنچانے والی بات ہے اور اس سے عوام کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ یہ انکشافات مانڈلسن کے سیاسی زوال کا نیا باب ہیں جو ٹونی بلیئر کے ساتھ 'نیو لیبر پارٹی' کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اتوار کی شام لیبر پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا تاکہ وزیر اعظم کی قیادت میں پارٹی کو مزید شرمندگی سے بچا سکیں۔ پیر کے روز وزیر اعظم سٹارمر نے پیٹر مانڈلسن اور جیفری ایپسٹین کے درمیان سنہ 2008ء سے سنہ 2010 ءکے دوران ہونے والے رابطوں کی جامع تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ لندن پولیس نے بھی اس معاملے میں عوامی عہدے کے غلط استعمال کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ادھر یورپی کمیشن نے بھی منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ کیا پیٹر مانڈلسن نے سنہ 2004 سے سنہ 2008ء کے دوران بطور یورپی کمشنر برائے تجارت کسی ضابطے کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments