ایکواڈور کی وزارتِ ماحولیات نے اعلان کیا کہ سائنس دانوں اور جنگلات کے محافظوں نے گالاپاگوس جزائر کے فلوریانا جزیرے میں 150 دیو ہیکل کچھوے چھوڑے ہیں، جو وہاں ایک صدی سے زیادہ عرصہ قبل ناپید ہو چکے تھے۔ وزارت کے بیان کے مطابق، جنگلات کے محافظوں نے "آتش فشانی زمینوں اور دشوار گزار علاقوں" میں سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تاکہ ان کچھوؤں کو منتقل کیا جا سکے اور ان کے وہاں ڈھل جانے کی تصدیق کی جا سکے۔ ان کچھوؤں کو ان کے قدرتی مسکن میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ گالاپاگوس کے ایک نیشنل پارک کے مرکز میں رہ رہے تھے۔ جنگل میں چھوڑے جانے سے قبل ہر کچھوے کو طویل عرصے تک قرنطینہ میں رکھا گیا اور ان کی شناخت کے لیے ان میں ایک الیکٹرانک چپ لگائی گئی۔ گالاپاگوس جزائر ایکواڈور کے ساحلوں سے ایک ہزار کلومیٹر دور واقع ہیں، جہاں دنیا کی منفرد ترین نباتاتی اور جنگلی حیات پائی جاتی ہے۔ انہی جزائر میں انیسویں صدی کے دوران ماہرِ حیاتیات چارلس ڈارون نے ارتقائے انواع (تھیوری آف ایوولوشن) کا نظریہ پیش کیا تھا۔ ان کچھوؤں کے علاوہ، حکام وہاں پرندوں کی مختلف اقسام سمیت دیگر ان انواع کو بھی دوبارہ بحال کرنے پر کام کر رہے ہیں جو وہاں سے ختم ہو چکی تھیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ