International

ایک صدی تک ناپید رہنے کے بعد150 دیو ہیکل کچھوے اپنے مسکن میں واپس آ گئے

ایک صدی تک ناپید رہنے کے بعد150 دیو ہیکل کچھوے اپنے مسکن میں واپس آ گئے

ایکواڈور کی وزارتِ ماحولیات نے اعلان کیا کہ سائنس دانوں اور جنگلات کے محافظوں نے گالاپاگوس جزائر کے فلوریانا جزیرے میں 150 دیو ہیکل کچھوے چھوڑے ہیں، جو وہاں ایک صدی سے زیادہ عرصہ قبل ناپید ہو چکے تھے۔ وزارت کے بیان کے مطابق، جنگلات کے محافظوں نے "آتش فشانی زمینوں اور دشوار گزار علاقوں" میں سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تاکہ ان کچھوؤں کو منتقل کیا جا سکے اور ان کے وہاں ڈھل جانے کی تصدیق کی جا سکے۔ ان کچھوؤں کو ان کے قدرتی مسکن میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ گالاپاگوس کے ایک نیشنل پارک کے مرکز میں رہ رہے تھے۔ جنگل میں چھوڑے جانے سے قبل ہر کچھوے کو طویل عرصے تک قرنطینہ میں رکھا گیا اور ان کی شناخت کے لیے ان میں ایک الیکٹرانک چپ لگائی گئی۔ گالاپاگوس جزائر ایکواڈور کے ساحلوں سے ایک ہزار کلومیٹر دور واقع ہیں، جہاں دنیا کی منفرد ترین نباتاتی اور جنگلی حیات پائی جاتی ہے۔ انہی جزائر میں انیسویں صدی کے دوران ماہرِ حیاتیات چارلس ڈارون نے ارتقائے انواع (تھیوری آف ایوولوشن) کا نظریہ پیش کیا تھا۔ ان کچھوؤں کے علاوہ، حکام وہاں پرندوں کی مختلف اقسام سمیت دیگر ان انواع کو بھی دوبارہ بحال کرنے پر کام کر رہے ہیں جو وہاں سے ختم ہو چکی تھیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments