International

ہاتھ پر خراش، اور اجلاسوں میں سونے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی ’متضاد وضاحتیں‘

ہاتھ پر خراش، اور اجلاسوں میں سونے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی ’متضاد وضاحتیں‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہاتھ پر پڑنے والے خراشوں اور نیل کا سبب سپرین کو قرار دیا اور پبلک میٹنگز کے دوران سو جانے کی تردید کی۔ اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بات جمعرات کو شائع ہونے والے وال سٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ اپنی صحت کو ٹھیک قرار دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں ایم آر آئی سکین کروانے سے متعلق اپنے پہلے بیان میں بھی تبدیلی کی اور کہا کہ دراصل یہ ایک مختصر سی ٹی سکین تھا۔ 79 سالہ ٹرمپ، جو امریکی صدارت سنبھالنے والے معمر ترین شخص ہیں، نے اخبار کو بتایا کہ ’میری صحت بالکل ٹھیک ہے۔‘ انہوں نے اپنی صحت سے متعلق سوالات پر ناراضی کا اظہار کیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی سیاسی امیج بھرپور توانائی اور سرگرم فرد کے بنائی ہے، چاہے وہ صحافیوں سے بار بار گفتگو ہو، سوشل میڈیا پر مسلسل پوسٹنگ، یا خود کو سپر ہیرو دکھانے والی اے آئی میمز۔ تاہم، ان کی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے سال ان کی صحت کے حوالے سے سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان کے دائیں ہاتھ پر مسلسل خراشیں نظر آتے ہیں، جنہیں اکثر موٹے میک اپ سے چھپایا جاتا ہے اور بعض اوقات پٹی بھی باندھی جاتی ہے، جبکہ ان کے ٹخنے بھی سوجے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کبھار صدر ٹرمپ کو آنکھیں کھلی رکھنے میں واضح دقت دکھائی دیتی ہے۔ ایسا واقعہ پچھلے سال نومبر میں صحت حکام کے ساتھ اوول آفس میں ملاقات کے دوران پیش آیا جسے ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا تھا۔ چونکہ صدر ٹرمپ اپنے ڈیموکریٹ پیش رو جو بائیڈن کو اکثر ’اونگھنے والا‘ قرار دیتے رہے ہیں اس لیے اس ایشو پر زیادہ توجہ ہے۔ ری پبلکن رہنما نے ہاتھ پر پڑنے والے نیلوں کی وضاحت یہ کہہ کر کی کہ وہ روزانہ خون کو پتلا کرنے کے لیے سپرین لیتے ہیں۔ انہوں نے اخبار کو بتایا، ’میں نہیں چاہتا کہ گاڑھا خون میرے دل سے گزرے۔‘ ہاتھ پر ایک کٹ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’وہ اس وقت لگا جب اٹارنی جنرل پام بونڈی اور میں ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے ہوئے ان کی انگوٹھی میرے ہاتھ کے پچھلے حصے سے ٹکرائی تھی۔‘ صدر ٹرمپ کی صحت سے متعلق وضاحتیں متضاد رہی ہیں۔ انہوں نے خود صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہوں نے اکتوبر میں ایم آر آئی سکین کروایا، مگر اس وقت کہا تھا کہ انہیں ’بالکل معلوم نہیں کہ کیا جانچا گیا۔‘ تاہم اخبار سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایم آر آئی نہیں تھا، ’اس سے کم تھا۔ یہ ایک سکین تھا‘” صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ وہ عوامی مقامات پر سو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’میں کبھی زیادہ سونے والا نہیں رہا۔‘ ان کے بقول، جن مواقع پر وہ اونگھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہ محض آرام کے لمحات ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’میں بس آنکھیں بند کر لیتا ہوں۔ یہ میرے لیے بہت پُرسکون ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ میری تصویر پلک جھپکتے ہوئے لے لیتے ہیں، اور یوں لگتا ہے جیسے میں سو رہا ہوں۔‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments