International

آسٹریلیا: اسرائیلی صدر کے متوقع دورے پر فلسطین کے حامیوں کا احتجاجی مظاہروں کا اعلان

آسٹریلیا: اسرائیلی صدر کے متوقع دورے پر فلسطین کے حامیوں کا احتجاجی مظاہروں کا اعلان

اسرائیلی صدر اضحاک ہرزوگ آسٹریلیا کے دورے پر جائیں گے۔ تاکہ آسٹریلین ساحل پر یہودی تہوار کے دنوں میں ہونے والے ناخوشگوار واقعے کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کر سکیں۔ آسٹریلین ساحل پر 14 دسمبر کو فائرنگ کے ایک واقعے میں 15 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ فائرنگ کا الزام بھارتی شہریت کے حامل باپ بیٹے پر لگایا گیا تھا۔ اسرائیلی صدر ان متاثرہ خاندانوں سے اپنے دورے کے موقع پر بطور خاص ملاقاتیں کریں گے اور تعزیت کریں گے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بین الاقوامی فوجداری عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ اس لیے ان کے غیر ملکی دورے انتہائی کم ہو کر رہ گئے ہیں۔ کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ نہ صرف ان کے غیر ملکی دوروں کے دوران ان کی گرفتاری ہو سکتی ہے بلکہ جنگی جرائم کے حوالے سے اسرائیل کی بدنامی کا ایک بار پھر ابلاغی سطح پر تذکرہ نمایاں جگہ پا سکتا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے یہ وارنٹ گرفتاری واپس نہ ہوئے تو نیتن یاہو کی بطور اسرائیلی قائد کیریئر پر برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کہ ان کے لیے ایک بار پھر وزیر اعظم بننے کے باوجود خطرہ رہے گا کہ وہ بیرونی دنیا میں کم نقل و حرکت کر سکیں۔ جبکہ اسرائیل کی سفارتی ضروریات میں کافی اضافہ ہو چکا ہے۔ یہودی کمیونٹی کی اعلیٰ ترین باڈی 'ایگزیکٹیو کونسل آف آسٹریلین جیوری' کے مطابق صدر ہرزوگ کا یہ دورہ آسٹریلیا کی متاثرہ یہودی کمیونٹی کے لیے طے کیا گیا ہے۔ تاکہ ان کی تکلیف کے اس موقع پر ان سے اسرائیلی صدر اظہار یکجہتی کر سکیں۔ ادھر یہ بھی خطرہ ہے کہ اسرائیلی صدر کی آمد پر سنٹرل سڈنی میں شہری احتجاجا سڑکوں پر نکل سکتے ہیں۔ کیونکہ فلسطینیوں کے حامی کارکنوں نے اسرائیلی صدر کی آمد کے موقع پر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ آسٹریلین پولیس نے مظاہرین کو نئے قوانین کے بعد احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل آسٹریلیا نے زور دیا ہے کہ فلسطینی حامیوں کو احتجاجی ریلی کرنے کا حق دیا جائے۔ تاکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے خاتمے کے مطالبے کی آواز سامنے آسکے۔ ایمنیسٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ آسٹریلین صدر سے بھی نسل کشی کے جرائم کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں۔ آسٹریلیا کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اہم وکیل کرس سڈوتی نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی غزہ جنگ سے متعلق تحقیقات کی روشنی میں اسرائیلی صدر کو اس ہفتے گرفتار کیا جائے۔ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی سے متعلق بین الاقوامی فورمز کی تحقیقات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ یہ مسخ شدہ حقائق کی بنیاد پر مرتب کردہ رپورٹس ہیں۔ آسٹریلیا کی وفاقی پولیس نے اس امکان کو بھی مسترد کیا ہے کہ وہ اسرائیلی صدر کو آسٹریلیا آنے پر گرفتار کرے گی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے بطور صدر انہیں تمام تر مقدمات سے استثناء حاصل ہے اور ان میں نسل کشی سے متعلق مقدمات اور الزامات بھی شامل ہیں۔ آسٹریلین وزیراعظم نے اسرائیلی صدر کی آمد پر احتجاج کا اعلان کرنے والے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کی آمد کی وجہ پر غور کریں کہ وہ کیوں آسٹریلیا آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا اس مہمان کی آمد پر ہمیں اپنا قومی اتحاد برقرار رکھنا چاہیے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments