انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی ایک درجن سے زائد بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ اسرائیلی حکومت کے اس حکم کو منسوخ کیا جائے جو اسرائیل نے انسانی حقوق کی 37 تنظیموں کو غزہ ، مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں کام کرنے سے روکنے کے لیے جاری کیا ہے۔ ان درجن سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیلی حکم سے انسانی تباہی کی صورت حال پیدا ہو جائے گی اور جنگ زدہ یا زیر قبضہ علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی زندگی اور بھی اجیرن ہو جائے گی۔ اسرائیلی حکومت نے سرحدوں سے ماورا کام کرنے والی ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم 'ایم ایس ایف' کے علاوہ آوکسفام ، نارویجن ریفیوجی کونسل اور کیئر نامی انسانی حقوق کی تنظیمیں کو بھی ان 37 تنظیموں میں شامل کیا ہے جنہیں کہا گیا کہ 30 دسمبرسے ان کے اجازت نامے زائد المیعاد ہو گئے ہیں۔ اس لیے اسرائیلی حکم نامے کے ذریعے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اپنی خدمات کا سلسلہ روکیں اور ان علاقوں سے واپس چلی جائیں۔ بصورت دیگر اپنے مقامی کارکنوں کی فہرستیں ساٹھ دنوں کے اندر اندر اسرائیلی حکام کے حوالے کر کے نئی رجسٹریشن کرائیں۔ اسرائیل کے جاری کردہ ممانعتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اگر ان تنظیموں نے مقامی کارکنوں کی فہرستیں اسرائیلی حکام کے حوالے نہ کی تو انہیں فلسطینیوں کی خدمت کے کام سے یکم مارچ سے مکمل روک دیا جائے گا۔ اب اس اسرائیلی حکم کے خلاف دائرکی گئی 17 تنظیموں کی یہ درخواست اس حوالے سے منفرد حیثیت کی حامل اور غیر معمولی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مشترکہ طور پر اسرائیلی جبر کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ان انسانی حقوق تنظیموں نے اسرائیلی اقدام کو بین الاقوامی قانون کے خلاف اور انسانیت کے منافی قرار دیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے اگر انہوں نے اپنے مقامی کارکنوں کے کوائف اسرائیلی حکام کو دے دیے تو ان کارکنوں کے لیے صورت حال انتہائی بری ہو سکتی ہے اور اسرائیل انہیں اپنی کارروائیوں میں نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان مقامی کارکنوں کے بارے میں اعداد و شمار مخالف حکومت کے حوالے کرنا سخت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ نیز اپنے کارکنوں کا ڈیٹا کسی حکومت کے حوالے کرنا غیر جانبداری کے اصولوں کے بھی خلاف ہوگا۔ یاد رہے اقوام متحدہ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں کے 133 کارکنوں کو اب تک ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارکن غزہ میں جنگ کے دوران انسانی بنیادوں پر فلسطینیوں کے لیے خوراک ، خیموں اور علاج معالجے اور ادویات کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے۔ مگر اسرائیلی بمباری اور فائرنگ کانشانہ بنا دیے گئے۔ ان میں 15 کارکنوں کا تعلق ماورائے سرحدات کام کرنے والی ڈاکٹروں کی تنظیم ایم ایس ایف سے تھا۔ ان تنظیموں نے موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو فہرستیں فراہم کرنے کے بجائے متبادل تجویز دی ہے ۔ تاکہ مانیٹرنگ بھی ہو جائے اور غیر جانبداری کے اصولوں کا بھرم بھی رہ جائے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ