International

اسرائیلی خاتونِ اول کی تصاویر میں ردوبدل، اخلاقیات کی ایک نئی شدید بحث شروع ہو گئی

اسرائیلی خاتونِ اول کی تصاویر میں ردوبدل، اخلاقیات کی ایک نئی شدید بحث شروع ہو گئی

لگتا تھا کہ تصاویر آئندہ تمام نسلوں کے لیے اسرائیل کے ریاستی آرکائیوز میں آویزاں کرنے کے لیے تھیں۔ اِن میں وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اپنی اہلیہ سارہ کے علاوہ امریکی سفیر مائیک ہکابی اور اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ کے ساتھ ہیں اور یہودیوں کی عبادت کے مقدس ترین مقام مغربی دیوارِ گریہ پر حنوکۃ تہوار کے لیے مومی شمعیں روشن کر رہے ہیں۔ قائدین فاتحانہ نظروں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ سارہ نیتن یاہو کی جلد ہموار اور ملائم ہے، آنکھیں حد سے زیادہ واضح اور بال بہت سلیقے سے بنے ہوئے ہیں - اور یہ خصوصیات حکام نے تسلیم کیا ہے کہ بہت زیادہ تزئین و آرائش اور ردوبدل کا نتیجہ ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ مسئلہ فوٹو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کا استعمال نہیں ہے جو مشہور اور عوامی شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر عام ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ معاملہ باضابطہ سرکاری اعلانات میں تصاویر کی گردش کا ہے جس سے حقیقت مسخ اور اخلاقی ضوابط کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس سے سرکاری ذخیرہ کاری اور ریکارڈ رکھنے کی کوششوں میں سمجھوتے کا احتمال ہے۔ "اسرائیل کے آرکائیوز میں آج تک کی تمام تصاویر حقیقت کی مستند عکاسی ہیں کیونکہ یہ ریاست کے قیام کے بعد سے حکومتی فوٹوگرافرز کے کیمروں کے لینز سے بنائی گئی ہیں،" تجربہ کار سیاسی صحافی شابی گیٹینیو نے کہا جنہوں نے مقامی میڈیا کا احاطہ کرنے والی اسرائیلی سائٹ دی سیونتھ آئی میں یہ کہانی سب سے پہلے شائع کی۔ "یہ تصاویر اگر ڈیٹا بیس میں درج ہو جائیں تو ہمیشہ کے لیے اسے ایک ایسی مجازی حقیقت سے متأثر کر دیں گی جو کبھی موجود ہی نہیں تھی۔" جب سے تصاویر میں اس ہنرمندانہ ردوبدل کا انکشاف ہوا ہے، حکومت نے اپنی اُن خبروں میں سارہ نیتن یاہو کو کریڈٹ دینے کا بے مثال قدم اٹھایا ہے جن میں تبدیل شدہ تصاویر شامل ہیں۔ اور یہ واضح نہیں ہے کہ آیا سرکاری آرکائیو میں ان کی گذشتہ سال کے دوسرے نصف کے دوران لی گئی تصاویر شامل ہوں گی جب سے گیٹینیو کے مطابق ترمیم شروع ہونے کا امکان ہے۔ خاتونِ اول کے ذاتی ترجمان نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ گورنمنٹ پریس آفس کے ڈائریکٹر نِتزان چن نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وزیرِ اعظم کی تصاویر میں کبھی بھی ردوبدل نہیں کیا جاتا اور یہ کہ ان کا دفتر سرکاری آرکائیو میں کوئی ردوبدل شدہ تصاویر اپ لوڈ نہیں کرے گا۔ سڑسٹھ سالہ سارہ نیتن یاہو طویل عرصے سے اپنی تصاویر پر فوٹو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر استعمال کرتی رہی ہیں۔ ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایسی تصاویر سے بھرا پڑا ہے جن میں اس کا چہرہ بہت زیادہ تبدیل شدہ نظر آتا ہے۔ لیکن اس پر لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے جب سے ان کی فوٹوشاپ کی عادت عوامی ریکارڈ میں داخل ہوئی۔ گیٹینیو نے کہا کہ انہوں نے پہلی بار اس کا مشاہدہ گذشتہ جولائی میں کیا جب جوڑے نے واشنگٹن، ڈی سی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور پھر ستمبر میں جب سارہ نیتن یاہو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے نیویارک کے سفر سے قبل اپنے شوہر کے ساتھ شامل ہوئیں۔ اس وقت وزیرِ اعظم کے دفتر نے ایک تصویر کے ساتھ ان کی روانگی کی ایک ویڈیو جاری کی جس کا کریڈٹ سرکاری فوٹوگرافر ایوی اوہایون کو دیا گیا۔ تصویر کا خام ویڈیو سے موازنہ کرتے ہوئے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے ڈیجیٹل فرانزک ماہر ہانی فرید نے کہا کہ تصویر کو بعد ازاں بہتر کیا گیا تھا جس میں خاتونِ اول کی جلد کو ہموار کرنے اور جھریاں مٹانے کے لیے ردوبدل کیا گیا۔ فرید نے کہا کہ اس کے بعد سے نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کی اہلیہ اوشا کے ساتھ واشنگٹن میں خاتونِ اوّل کی ملاقات والی تصاویر کو بھی بہتر بنایا گیا۔ فرید نے کہا، "کچھ فوٹوشاپ ایڈیٹنگ ہوئی ہے - اسے ہم کہہ سکتے ہیں - 'خوبصورت بنانا،' چہرے کو ہلکا، ہموار کرنا، کیا اس میں قباحت ہے؟ نہیں۔ کیا اس میں کوئی مسئلہ ہے؟ جی ہاں۔ یہ اس سے بڑھ کر ہے کہ 'انہوں نے خود کو جوان ظاہر کرنے کے لیے اپنے چہرے کو فوٹوشاپ کیا'۔ یہ اعتماد کی بات ہے۔ میں اس حکومتی انتظامیہ کی طرف سے آنے والی کسی بھی سرکاری تصویر پر کیوں اعتماد کروں؟" گورنمنٹ پریس آفس کے سربراہ چن نے کہا، دفتر کے وکلاء اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اُن تصاویر کو کیسے ہینڈل اور صحیح طریقے سے پہچانا جائے جو "حکومتی دفتر کے فوٹوگرافرز کے علاوہ دوسرے لوگوں نے تبدیل کی ہوں۔" انہوں نے کہا کہ وزارتِ انصاف ترمیم شدہ تصاویر کے "معیار، حدود اور امکانات" کا بھی جائزہ لے رہی ہے اگرچہ انہوں نے زور دیا کہ تصاویر کے ردوبدل میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، جب اس طرح کی تبدیلیاں کی جاتی ہیں تو معاملہ شفافیت کا ہوتا ہے۔ فی الحال ان کے دفتر نے ان پریس ریلیز میں سارہ نیتن یاہو کا نام دینے کا فیصلہ کیا ہے جن میں ردوبدل شدہ تصاویر شامل ہیں۔ نومبر کے بعد سے ان کی تصاویر والی پریس ریلیز میں یہ لیبل شامل کیا گیا ہے جن میں وہ ٹرمپ اور واشنگٹن میں غزہ کے آخری قیدی کے خاندان کے ساتھ مسکرا رہی ہیں اور میامی کی عبادت گاہ کا دورہ کرنے اور اسرائیلی میئر کے جنازے میں شرکت کی تصاویر والی پریس ریلیز۔ کم از کم ایک آؤٹ لیٹ ٹائمز آف اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اب ایسی سرکاری تصاویر شائع نہیں کرے گا جن میں بظاہر ردوبدل کیا گیا ہو۔ ایسوسی ایٹڈ پریس ایسی تصاویر شائع نہیں کرتا ہے جو بظاہر ترمیم شدہ ہوں یا ان میں ڈیجیٹل طور پر ردوبدل کیا گیا ہو۔ چن نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی تصاویر کبھی ایڈٹ نہیں کی جاتیں: "کوئی فوٹوشاپ، کوئی درستی، کوئی رنگ، کچھ نہیں۔" اگرچہ وزیرِ اعظم کے چہرے میں شاید ردوبدل نہ کیا جائے لیکن ان کا آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کچھ اور کہانی سناتا ہے۔ اس صفحے نے ایسا مواد بڑی تعداد میں شائع کیا ہے جو بظاہر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے ترمیم شدہ یا تیار کردہ ہے جس میں ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کے ساتھ جوڑے کی تصویر شامل ہے جو واشنگٹن میں نئے سال کا جشن منا رہے ہیں۔ تصویر نے اسرائیل میں شکوک و شبہات پیدا کیے کیونکہ سیاہ لباس میں ملبوس سارہ نیتن یاہو اِس تقریب کی دیگر تصاویر سے غیر حاضر تھیں جس میں انہوں نے گہرے سرخ رنگ کا فراک پہنا ہوا تھا۔ جوڑے کے سروں کے اوپر آسمان میں جگمگاتی آتشبازی اور امریکی اور اسرائیلی پرچم نظر آ رہے ہیں جن کے بارے میں فرید نے کہا کہ "تقریباً یقینی طور پر" اے آئی کے ذریعے بنائے گئے تھے۔ اب اسے انسٹاگرام پر ایک ٹیگ کے ساتھ نشان زد کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اس میں اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے تبدیلی یا تخلیق کی گئی ہو۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ٹیگ کب اور کس نے لگایا۔ اس معاملے میں نیتن یاہو تنہا نہیں ہیں۔ ٹرمپ سمیت کئی عالمی شخصیات اپنی عوامی تصاویر میں اے آئی سے تیار کردہ تصویری ردوبدل کا بکثرت استعمال کرتی ہیں۔ یروشلم کے ایک تھنک ٹینک اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ میں "ڈیموکریسی ان دا ڈیجیٹل ایج پروگرام" چلانے والی تہیلا شوارٹز الٹشولر نے اسے "مقبولیت پسند پلے بک کا حصہ" قرار دیا اور کہا، اس بات کا "کوئی امکان نہیں" تھا کہ نیتن یاہو اس بات کی تقلید کر رہے تھے کہ ٹرمپ ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔ نیتن یاہو کے آفیشل انسٹاگرام نے بی-ٹو بمبار میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ویڈیو پوسٹ کی ہے جو مکمل طور پر اے آئی سے تیار کردہ لگتی ہے۔ گذشتہ سال ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے حوالے سے اس کا عنوان "اپنی فتح کی خوشی میں چکر لگاتے ہوئے" ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ بالکل وہی ہے جو نیتن یاہو اور ان کے حلقے نے کئی سالوں سے کرنے کی کوشش کی ہے۔ خود کو ایک سپر ہیرو، اپنی بیوی کو ایک سپر ماڈل اور اپنے خاندان کو ایک انتہائی وفادار خاندان کے طور پر پیش کرنا۔ حتیٰ کہ جب ایسا نہیں تھا اور جب اصل سیاسی کام، انتظامی کام اور سماجی کاموں کو اس سے نقصان پہنچا، تب بھی۔" انہوں نے کہا، اسرائیل باضابطہ سرکاری ریکارڈ رکھنے اور مواصلات میں ایک نازک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ "حق کو اور تاریخ کو محفوظ کرنے کا سوال ہمارے وقت کے سوالات میں سے ایک ہو گا۔"

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments