International

اسرائیل کا آباد کاروں کو راکٹوں سمیت بھاری ہتھیاروں سے لیس کرنے پر غور

اسرائیل کا آباد کاروں کو راکٹوں سمیت بھاری ہتھیاروں سے لیس کرنے پر غور

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شمالی حصے میں مستقل بنیادوں پر اپنی نفری بڑھانا شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے اور اس سے زمینی صورت حال یکسر بدل جائے گی۔ اس منصوبے میں آباد کاروں کے ہتھیاروں میں اضافہ (بشمول مشین گنیں اور ٹینک شکن میزائل)، نئی بستیوں کی تعمیر اور پہلے سے موجود مگر الگ تھلگ بستیوں کی بحالی شامل ہے۔ اسرائیلی اخبار "یدیعوت آحرونوت" نے اتوار کے روز بتایا کہ جنگ اور مختلف محاذوں پر توجہ مرکوز ہونے کے سائے میں اسرائیلی فوج خود کو مغربی کنارے میں آباد کاروں کے زیر قبضہ علاقوں کے دوگنا دفاع کی مہم میں دیکھ رہی ہے۔ یہاں گذشتہ تین برسوں کے دوران درجنوں بستیاں اور فارم ہاؤسز قائم ہوئے ہیں۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ اس مسئلے کے پیش نظر فوج نے پرانی اور نئی بستیوں کے سیکٹر میں نئی بٹالینز کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ شمالی مغربی کنارے میں 2005 میں کیے گئے علیحدگی کے عمل (ڈس انگیجمنٹ) کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں علیحدگی کے قانون کے ایک حصے کی منسوخی کو ٹھوس حقیقت میں بدلنے کی تیاری کر رہی ہے۔ عملی طور پر فوجی دستے شمالی مغربی کنارے میں راستے بنا رہے ہیں تاکہ فلسطینی قصبہ "سيلة الظهر" کے گرد بائی پاس راستہ تیار کیا جا سکے اور "صانور" نامی بستی، جسے پہلے خالی کر دیا گیا تھا، اس کی حفاظت کے لیے ایک نئی فوجی چوکی قائم کی جا سکے۔ توقع ہے کہ اسی طرح کے اقدامات "حومش" بستی اور ممکنہ طور پر "کادیم" اور "غانیم" کی بستیوں کے گرد بھی کیے جائیں گے جو دو دہائیوں سے کھنڈر بنی ہوئی تھیں اور اب علیحدگی کا منصوبہ ختم ہونے کے بعد ان کی دوبارہ تعمیر کا ارادہ ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق گذشتہ دو برسوں کے دوران شمالی مغربی کنارے میں طویل آپریشنز کا سلسلہ، جس میں جنین پناہ گزین کیمپ پر مستقل قبضہ بھی شامل ہے، ایک تمہیدی قدم تھا جس نے ان علاقوں میں زیادہ محفوظ طریقے سے بستیاں قائم کرنے کی راہ ہموار کی۔ فوج کے ایک اہل کار نے کہا "کچھ سال پہلے تک نابلس کے بلاطہ پناہ گزین کیمپ میں ہمارا استقبال فائرنگ اور دھماکہ خیز مواد سے کیا جاتا تھا۔ مگر آج ہم وہاں صبح گیارہ بجے دن کی روشنی میں داخل ہو سکتے ہیں اور شاید ہمیں صرف چند پتھروں کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ اس بدلے ہوئے موقف اور دہشت گرد عناصر پر شدید دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خوف کی وجہ سے ہے"۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments