International

اسرائیل ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے سے متعلق ٹرمپ کے کسی بھی اچانک فیصلے کے لیے الرٹ

اسرائیل ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے سے متعلق ٹرمپ کے کسی بھی اچانک فیصلے کے لیے الرٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینٹکی میں ایک انتخابی جلسے کے دوران ان اشاروں کے باوجود کہ ایران کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہو گی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کسی بھی اچانک فیصلے کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب اس امکان کو مدنظر رکھ رہا ہے کہ ٹرمپ کوئی اچانک فیصلہ لے سکتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران میں ان کے اہداف حاصل ہو چکے ہیں۔ ویب سائٹ ’ایکسیس‘ کی جانب سے جمعرات کے روز رپورٹ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام کے مطابق امریکی صدر کا فی الحال اگلے دو یا تین ہفتوں میں جنگ ختم کرنے کا کوئی ارادہ دکھائی نہیں دیتا۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ امریکی صدر نے ایک سے زائد مرتبہ جنگ کے خاتمے کے وقت اور طریقے کے بارے میں متضاد اشارے دیے ہیں، جس کی وجہ سے اتحادی اور دشمن دونوں ہی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں آگے کے لیے کیا تیاری کرنی چاہیے۔ ’جی سیون‘ ممالک کی کال سے باخبر دو ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا رویہ ’مبہم اور غیر فیصلہ کن‘ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ شرکاء اس تاثر کے ساتھ واپس آئے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دیگر نے اس کے بالکل برعکس محسوس کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ جنگ ’جلد‘ ختم ہو جائے گی کیونکہ ایرانی حدود کے اندر نشانہ بنانے کے لیے ’عملی طور پر کچھ باقی نہیں بچا‘۔ تاہم کینٹکی میں جلسے کے لیے وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت انہوں نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ ابھی ایران کو ضربیں لگانے سے ’فارغ نہیں ہوا‘۔ جلسے کے دوران امریکی صدر نے جوشیلے انداز میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں وقت سے پہلے جیت کا اعلان نہیں کرنا چاہیے، اگرچہ ہم ابتدائی گھنٹوں میں ہی جیت چکے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اشارہ دیا کہ مشن مکمل ہونے سے پہلے یہاں سے نہیں جانا چاہیے۔ دوسری جانب ایک امریکی ذریعے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ محاذ آرائی ختم کرنے کا فیصلہ کرنے سے قبل کم از کم مزید 3 سے 4 ہفتوں تک جنگ جاری رکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔ بدھ کے روز ’جی سیون‘ ممالک کے سربراہان کے ساتھ ویڈیو کال کے بعد فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے علانیہ طور پر وہ بات کہہ دی جو اب تک ڈھکے چھپے لفظوں میں کہی جا رہی تھی کہ بہت سے ممالک کے سربراہان اس بات سے ناواقف ہیں کہ ’ٹرمپ اس جنگ سے آخر چاہتے کیا ہیں‘۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments