برطانوی وزیر اعظم سر کئیر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ایران پر ابتدائی حملوں میں برطانیہ شامل نہیں تھا۔ لندن میں جنگ کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے سر کئیر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ، اسرائیل اور امریکا کے جارحانہ حملوں میں شامل نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا بہترین راستہ مذاکرات سے مسائل کے حل میں ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی برطانیہ کے موقف پر تنقید کا بھی سر کئیر اسٹارمر نے جواب دیا۔ انہوں نے کہا میرا فرض ہے کہ برطانیہ کے قومی مفاد میں فیصلہ کروں، فیصلے پر قائم ہوں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ جنگ میں عراق جنگ کی غلطیاں نہیں دھرائیں گے، برطانوی شہریوں کی حفاظت فرض ہے اسی لیے برطانوی جیٹس مربوط دفاعی کارروائیوں کیلئے فضا میں ہیں۔ سر کئیر اسٹارمر نے کہا فوجی اڈے اس لیے دیے کہ میزائل فائر کرنے والے مقام اور لانچر کو تباہ کر دیا جائے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ