Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

بی جے پی نے ریلی میں 10 لاکھ لوگوں کے جمع ہونے کے کانگریس کے دعوے کو مسترد کر دیا

Admin
By Admin
Nov 02, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

بی جے پی نے ریلی میں 10 لاکھ لوگوں کے جمع ہونے کے کانگریس کے دعوے کو مسترد کر دیا
بی جے پی نے ریلی میں 10 لاکھ لوگوں کے جمع ہونے کے کانگریس کے دعوے کو مسترد کر دیا — November 02, 2026
نئی دہلی، یکم نومبر :) بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان اور لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سمبت پاترا نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رام لیلا میدان میں منعقدہ انڈیا اتحاد کی ریلی میں کانگریس کے 10 لاکھ لوگوں کے جمع ہونے کے دعوے کی حقیقت سامنے آ گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ میدان کا 55 فیصد حصہ خالی تھا اور 28 ہزار کرسیوں میں سے ہزاروں کرسیاں خالی پڑی تھیں۔ ڈاکٹر پاترا نے ویڈیو اور اعداد و شمار کے ذریعے کانگریس کے دعو¶ں کو گمراہ کن قرار دیا۔ انہوں نے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کو لے کر کانگریس کے الزامات کو بھی اسی طرح کا جھوٹ قرار دیا۔ بی جے پی کے قومی ترجمان نے راہل گاندھی کے 2024 کے انتخابات کو غیر قانونی قرار دینے والے بیان پر سوال اٹھائے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ان کی غیر مہذب زبان پر تنقید کی۔
بی جے پی کے قومی ترجمان نے کہا کہ راہل گاندھی اور ان کی ٹیم نے رام لیلا میدان میں 10 لاکھ لوگوں کے پہنچنے کا دعویٰ کیا تھا۔ کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال اور پارٹی کے سینئر ترجمان پون کھیڑا نے بھی 10 لاکھ لوگوں کے جمع ہونے کی بات کہی تھی۔ رام لیلا میدان تقریباً 10 سے 12 ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے ۔ میدان میں بنے اسٹیج اور اس کے سامنے کے 'ڈی' حصے نے تقریباً 15 فیصد جگہ گھیر رکھی تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً 40 فیصد حصے کو نظروں سے چھپانے کے لیے خیمے لگا کر ڈھانپ دیا گیا تھا، تاکہ اس کے پیچھے کی خالی جگہ دکھائی نہ دے ۔ تصویروں میں صاف نظر آ رہا ہے کہ میدان کا پچھلا پورا حصہ خالی تھا۔ وہاں نہ کوئی کرسی تھی اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی انتظام تھا۔
ڈاکٹر پاترا نے کہا کہ ایس آئی آر کے معاملے میں بھی راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی کا حساب کتاب بالکل ایسا ہی ہے ۔ کانگریس مسلسل الزام لگا رہی ہے کہ ووٹ کاٹ دیے گئے ، لیکن راہل گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے 10 لاکھ ووٹر آج یہاں موجود ہوں گے ۔ اب اصل اعداد و شمار کا حساب لگایا جائے تو پتہ چلے گا کہ کتنے لوگ غیر حاضر رہے ، کتنے وہاں سے دوسری جگہ چلے گئے اور کتنے واقعی ریلی میں پہنچے ۔ اس پورے حساب کتاب سے کانگریس پارٹی کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوتا ہے ۔
ڈاکٹر سمبت پاترا نے کہا کہ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ راہل گاندھی کی باتیں وہیں کی وہیں اٹکی ہوئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا ٹیپ ریکارڈر وہیں اٹک گیا ہے ۔ راہل گاندھی کہہ رہے ہیں کہ 2024 کے انتخابات غیر قانونی تھے اور گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹنا ہوگا۔ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ گیانیش کمار سو نہیں پا رہے ہیں اور خوف زدہ ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 2024 کے انتخابات کے وقت گیانیش کمار الیکشن کمشنر نہیں تھے ۔ وہ 2024 کے بعد 2025 میں الیکشن کمشنر بنے تھے ۔ اگر راہل گاندھی کے مطابق 2024 کے انتخابات غیر قانونی تھے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ خود بھی غیر قانونی اپوزیشن لیڈر ہیں اور ان کے تمام ارکان پارلیمنٹ بھی غیر قانونی ہیں۔ آخر کون ایسا رہنما ہوتا ہے ، جو اپنے ہی رہنما¶ں اور ملک کے عوام کی آواز اٹھانے کی بات کرتے ہوئے انہی کا مذاق اڑاتا ہے ؟ راہل گاندھی کے آگے ، پیچھے ، دائیں اور بائیں بیٹھے تمام رہنما ان کے مطابق غیر قانونی ہیں۔ ملکارجن کھرگے بھی غیر قانونی رکن پارلیمنٹ ہیں، ان کی والدہ اور ان کی بہن بھی غیر قانونی رکن پارلیمنٹ ہیں، کیونکہ راہل گاندھی کے حساب سے انتخابات ہی غیر قانونی تھے ۔ اگر انتخابات غیر قانونی تھے تو اس کے خلاف رام لیلا میدان میں ڈھائی سال بعد جدوجہد نہیں کی جاتی اور نہ ہی وہاں مٹھی بھر لوگوں کو جمع کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کو غیر قانونی ماننے کی صورت میں راہل گاندھی کو فوراً انتخابات کے بعد انہیں چیلنج کرنا چاہیے تھا، عرضی دائر کرنی چاہیے تھی اور عدالت میں جا کر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے تھا۔ راہل گاندھی ایسی ایک عرضی دکھائیں، جس میں کانگریس پارٹی یا انڈیا اتحاد کی کسی بھی پارٹی نے 2024 کے انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ہندوستان کی سپریم کورٹ یا کسی دوسری عدالت میں چیلنج کیا ہو۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے حوالے سے کہا کہ وہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نہیں بن سکتے تھے ۔ یہ ہندوستان تمام ہندوستانیوں کا ہے ۔ یہاں چائے بیچنے والا بھی وزیر اعظم بن سکتا ہے ۔ راہل گاندھی کو یہی بات کھٹکتی ہے کہ عام لوگ جمہوریت کی سیڑھیاں چڑھ کر وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور بڑے رہنما بن گئے ، جبکہ خاندانی سیاست کرنے والے لوگ پیچھے رہ گئے ۔
بی جے پی کے قومی ترجمان نے کہا کہ راہل گاندھی صحیح کہہ رہے ہیں کہ ان کے رہتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کبھی عہدے سے نہیں ہٹیں گے ۔ اگر اپوزیشن اسی طرح غیر اہم مسائل گھڑ کر افراتفری پھیلانے کی کوشش کرے گی تو وزیر اعظم نریندر مودی کہیں نہیں جائیں گے ۔ ہم یہ بات تکبر سے نہیں بلکہ فخر سے کہہ رہے ہیں، کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کو 140 کروڑ ہندوستانیوں کا آشیرواد حاصل ہے ۔ آج رام لیلا میدان خالی پڑا ہے ۔ ایس آئی آر کی کہانی بھی بالکل ایسی ہی ہے ۔ 10 لاکھ لوگوں کے آنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن وہاں مٹھی بھر لوگ ہی پہنچے اور کرسیاں خالی رہ گئیں۔ ایس آئی آر میں بھی جس دن آپ کرسی پر بیٹھ کر فارم-6 بھر دیں گے ، اس دن آپ بھی سامعین اور ووٹر کہلائیں گے ۔ راہل گاندھی کو یہ ویڈیو دکھانا چاہیے اور ان سے پوچھنا چاہیے کہ آخر حقیقت کیا ہے ؟

نئی دہلی، یکم نومبر :) بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان اور لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سمبت پاترا نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رام لیلا میدان میں منعق...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn