امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں برطانوی طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں برطانوی تعاون کی کمی کو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ان تند و تیز بیانات نے واشنگٹن اور لندن کے درمیان روایتی خصوصی تعلقات میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہوں نے برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کو بتا دیا ہے کہ اب امریکہ کو برطانوی امداد کی حاجت نہیں رہی کیونکہ ان کا ملک پہلے ہی یہ جنگ جیت چکا ہے۔ امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ برطانیہ جو کبھی ہمارا عظیم ترین اتحادی تھا، اب مشرق وسطیٰ میں اپنے دو طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ ٹھیک ہے وزیراعظم سٹارمر، اب ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہم یہ رویہ یاد رکھیں گے۔ ہمیں ان لوگوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیت لینے کے بعد صفوں میں شامل ہونے آتے ہیں"۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ان رپورٹوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ برطانوی شاہی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز پانچ دنوں کے اندر مشرق وسطیٰ روانگی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ برطانوی حکومت خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا حتمی فیصلہ کر لے۔ ہفتے کی شام صدارتی طیارے پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر برطانیہ دو ہفتے قبل تعاون کرتا تو اچھا ہوتا، مگر اب امریکہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری جانب برطانوی بحری بیڑے کے عملے کو الرٹ رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے تاکہ حکومت کے اشارے پر فوری روانگی ممکن ہو سکے۔ گذشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم کیئر سٹارمر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ونسٹن چرچل نہیں ہیں۔ یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب برطانوی وزیراعظم نے ابتدا میں ڈیاگو گارشیا کے مشترکہ فوجی اڈے کو ایران کے خلاف فضائی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دوسری جانب برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اپنی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے آغاز سے ہی امریکہ کا ساتھ دے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ واشنگٹن نے صرف ایندھن بھرنے کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی درخواست کی تھی۔ ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ یہ تنازعہ ویتنام یا عراق جنگ جیسا نہیں ہے جہاں ہزاروں برطانوی فوجی میدان میں تھے، بلکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات برطانیہ کی سکیورٹی کے لیے ناگزیر بنیاد ہیں۔ ان فوجی مہم جوئیوں کے بیچ برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات کے لیے اضافی فنڈز کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس پر وزیر خزانہ راچل ریوز کے ساتھ اختلافات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ادھر برطانوی سکیورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو ایرانی سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو شہری اور حکومتی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تہران کی جانب سے لندن میں متعین ایرانی سفیر سید علی موسوی نے برطانیہ کو جنگ میں مزید گہرائی تک ملوث ہونے سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر برطانیہ نے ایسا کیا تو ایران اسے اپنا دفاعی حق سمجھے گا، لہٰذا برطانوی حکومت اپنے فوجی فیصلوں میں انتہائی احتیاط سے کام لے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ