انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے ایک حالیہ بیان میں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’انڈیا رمضان کے مقدس مہینے کے دوران افغان سرزمین پر پاکستان کے اُن فضائی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کی جانب سے اپنی اندرونی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی ایک اور کوشش ہے۔‘ انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’انڈیا افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘ واضح رہے کہ سنیچر کی شب پاکستان کی وزاتِ اطلاعات کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘ جس کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان فوج پر افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ