International

انسداد بدعوانی کے لیے دنیا کی پہلی اے آئی وزیر خود ہی کرپشن کا شکار ہو گئی

انسداد بدعوانی کے لیے دنیا کی پہلی اے آئی وزیر خود ہی کرپشن کا شکار ہو گئی

مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) سے تیار کردہ دنیا کی پہلی حکومتی وزیر ’’ ڈیلا ‘‘ سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ البانیا میں پھیلی ہوئی بدعنوانی کو کم کرنے میں مدد کرے گی لیکن یہ وزیر خود اپنے تیار کنندہ ادارے کی کرپشن کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔ امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کی رپورٹ کے مطابق البانیا میں انفارمیشن سوسائٹی کی نیشنل ایجنسی کی ڈائریکٹر اور ان کے نائب کو انسداد بدعنوانی کے پراسیکیوٹر آفس کے فیصلے پر کرپشن کے شبہ میں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ ان دونوں اہلکاروں پر ابھی تک کوئی رسمی فرد جرم عائد نہیں کی گئی لیکن شبہ ہے کہ انہوں نے تقریباً 74 لاکھ یورو مالیت کے سرکاری ٹھیکوں کی خریداری کے طریقہ کار میں ہیرا پھیری کے لیے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کیا۔ دوسری جانب البانیا کے وزیراعظم ایڈی راما نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انتظار کرنا اور دیکھنا ہوگا۔ یہ ایجنسی ریاست کے ڈیجیٹل ڈھانچے کی ذمہ دار سرکاری باڈی ہے اور ’’ ای البانیا ‘‘ جیسے منصوبوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اسی طرح یہی ادارہ البانیا کی پہلی ورچوئل وزیر ’’ ڈیلا ‘‘ کی تیاری کے پیچھے بھی تھا۔ اس ورچوئل وزیر کا مقصد عوامی ٹینڈرز میں شفافیت کو فروغ دینا تھا۔ گزشتہ ستمبر میں البانیا کے وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ ان کی نئی حکومت میں ایک "ورچوئل وزیر" شامل ہوگا جو عوامی فنڈنگ کے منصوبوں کی نگرانی اور سرکاری نیلامیوں میں کرپشن کے خاتمے کا ذمہ دار ہوگا۔ یہ عالمی سطح پر ایک بے مثال قدم تھا۔ راما نے مزید کہا تھا کہ ’’ڈیلا‘‘ ۔ جس کا مطلب البانی زبان میں "سورج" ہے ۔ کابینہ کی ایسی رکن ہے جو جسمانی طور پر موجود نہیں بلکہ اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ورچوئل طور پر تیار کیا جائے گا۔ ڈیلا کو البانیائی الیکٹرانک پبلک سروسز پلیٹ فارم پر ایک ورچوئل اسسٹنٹ کے طور پر لانچ کیا گیا تھا جہاں وہ روایتی البانیائی لباس پہنے صارفین کو ویب سائٹ استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments