National

امت شاہ نے اپوزیشن پر لگایا مسلمانوں میں خوف پھیلانے کا الزام، کہا-وقف مذہبی معاملہ ہے، وقف بورڈ نہیں

امت شاہ نے اپوزیشن پر لگایا مسلمانوں میں خوف پھیلانے کا الزام، کہا-وقف مذہبی معاملہ ہے، وقف بورڈ نہیں

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران اپوزیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہ اپوزیش عوام میں خوف کی فضا قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امت شاہ نے ایوان میں کہا ’’اپوزیشن یہ دعویٰ کر کے کہ وقف بل مسلمانوں کے مذہبی معاملات اور ان کی عطیہ کردہ زمینوں میں مداخلت ہے، اپنا ووٹ بینک بنانے کےلیے عوام کو خوف زدہ کر رہی ہے۔‘‘ شاہ نے کہا کہ انتظامی معاملات کے لیے بورڈ میں غیرمسلم کی تقرری ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا ’’کیا ایک ہندو، جین، یا سکھ چیریٹی کمشنر دوسرے مذہب سے نہیں ہو سکتا؟ آپ قوم کو توڑ دیں گے۔ یہ بل ضروری نہیں تھا، اگر وہ (کانگریس) 2013 میں اس بل میں ترمیم کر کے اسے انتہائی نہ بناتی۔ 2014 کے انتخابات سے پہلے خوش کرنے کے لیے انھوں نے لوٹین دہلی کی اہم زمینیں وقف املاک کے طور پر دے دیں۔‘‘ امت شاہ نے کانگریس پر نشانہ سادھتے ہوئے وقف ترمیمی بل 2013 پر بھی بات کی اور کہا کہ نیا بل لانے کی وجہ یہی ہے کہ کیوں کہ کانگریس نے 2013 میں جو ترمیم کی تھی وہ مناسب نہیں تھی۔ انھوں نے اس حوالے سے لالو یادو کے اس وقت کے مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب 2013 میں وقف کے قانون میں ترمیم کی گئی تھی ، تب لالو پرساد یادو نے کہا تھا کہ وہ ایک ایسا سخت قانون چاہتے ہیں جو چوری کرنے والوں کو جیل میں ڈالے۔ نریندر مودی نے لالو پرساد یادو کی اس خواہش کو پورا کیا ہے۔‘‘ امت شاہ نے وقف بورڈ میں غیرمسلم اراکین کی شمولیت کے معاملے پر کہا کہ ’’غیر مسلم اراکین کو کہاں شامل کیا جائے گا؟ کونسل اور وقف بورڈ میں وہ کیا کریں گے؟ وہ کوئی مذہبی سرگرمی نہیں کریں گے۔ وہ صرف وقف قانون کے تحت کسی کی طرف سے عطیہ کی گئی جائیداد کے انتظام کی دیکھ بھال کریں گے۔ وہ صرف یہ دیکھیں گے کہ کیا عطیہ قانون کے مطابق کیا جا رہاہے؟ اور کیا وقف املاک کا استعمال اسی مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے جس مقصد کے تحت اسے وقف کیا گیا تھا؟‘‘

Source: social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments