تہران(4 مارچ 2026): ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے قریبی ساتھی اور سینئر عہدیدار محمد مخبر نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مذاکرات کرنے جارہے ہیں۔ محمد مخبر کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکیوں پر ذرہ برابر بھی اعتماد نہیں ہے، اسی لیے ان کے ساتھ مذاکرات کی کوئی وجہ باقی نہیں رہ جاتی۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھتا ہے اور جب تک ضرورت پڑی یا دشمن نے چاہا، ہم اس جنگ کو جاری رکھنے کی مکمل طاقت رکھتے ہیں۔ ایران کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ میں آکر اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ دوسری جانب ایرانی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی وارننگز کو نظر انداز کرنے والے 10سے زائد آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز میں کمرشل جہازوں کیساتھ امریکی نیوی جائے گی، امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جہازوں کے انشورنس میں امریکی مالیاتی ادارہ مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئل ٹینکرز سمیت تمام تجارتی جہازوں کو انشورنس اور گارنٹیز فراہم کی جائیں گی، اقدام کا مقصد خلیج میں جاری کشیدگی کے دوران تجارتی سرگرمیوں کا تحفظ ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ