ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر میجر جنرل امیر حیات مقدم نے کہا ہے کہ ایران "کسی بھی امریکی فوجی خطرے کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے"۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ "کسی بھی ممکنہ کشیدگی میں طیارہ بردار بحری جہاز کا غرق ہونا یا خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے"۔ حیات مقدم نے "ایران آبزرویٹری" ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مزید کہا "جنگ چھڑنے کی صورت میں یہ بعید نہیں کہ کوئی امریکی بحری جہاز ڈبو دیا جائے یا اس کے فوجیوں کو قیدی بنا لیا جائے ... ہم تمام امریکی افواج کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، خواہ وہ سپاہی ہو یا جنرل ... اور آپ کسی بھی لمحے یہ دیکھ سکتے ہیں کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کا محل حملے کی زد میں آ گیا ہے"۔ تاہم ایرانی عہدے دار نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جنگ شروع کرنا نہیں چاہتا اور اس کی دفاعی پالیسی حملے کی صورت میں فیصلہ کن جواب دینے پر مبنی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے سامنے مؤثر دفاعی صلاحیت نہیں رکھتا اور ایرانی میزائلوں کے سامنے امریکی فوجی ہیبت "گذشتہ 12 روزہ جنگ میں ختم ہو چکی ہے"۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری مذاکرات کے حوالے سے میجر جنرل حیات مقدم نے سلطنت عمان کی ثالثی میں بالواسطہ بات چیت کے تسلسل کا ذکر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران یورینیم کی "صفر افزودگی" کی شرط قبول نہیں کرے گا اور ایران کا جوہری پروگرام طبی اور پُر امن مقاصد کے لیے ہے، ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے نہیں۔ حیات مقدم نے وضاحت کی کہ تہران سفارتی مذاکرات کو اہمیت دیتا ہے لیکن اسے امریکی فریق پر بھروسا نہیں ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے پر واشنگٹن کی وابستگی مشکوک رہے گی ... اس لیے ایرانی ترجیح اپنی دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہازوں سمیت فوجی ساز و سامان کی خطے میں ترسیل نفسیاتی جنگ اور سیاسی دباؤ پیدا کرنے کی کوشش ہے، لیکن یہ ایران کو اپنے قومی مفادات کے دفاع سے نہیں روک سکے گی۔ ادھر ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے بھی اعلان کیا ہے کہ ایران امریکی بحری خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر خطے میں جنگ چھڑتی ہے تو کوئی بھی امریکی جنگی جہاز غرق ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ یہ بیانات 17 فروری کو ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب سلطنت عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے تھے۔ اس دوران امریکی بحری بیڑا "ابراہم لنکن" امریکی فوجی کمک کے طور پر خطے میں موجود تھا، جبکہ خطے میں دوسرے بحری بیڑے کی روانگی کی اطلاعات بھی گردش کر رہی تھیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ