امریکہ کے 150 سے زیادہ لڑاکا طیارے اس آپریشن میں شریک ہوئے جس کا مقصد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرنا تھا۔ ان میں ایک طیارہ “گراؤلر” بھی شامل تھا جس نے وینزویلا کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اس فوجی آپریشن کی تفصیلات اور گراؤلر طیاروں کے کردار کو اجاگر کیا۔ یہ طیارے برقی جنگ کے ماہر ہیں اور براہِ راست افراد پر حملہ نہیں کرتے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ طیارے امریکی “بزنس آف اسٹرائیک” کے تحت دفاعی نظام کو تیزی سے ناکارہ بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، جس کی نگرانی براہِ راست صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی۔ یہ طیارہ کی سوپر ہارنٹ پر مبنی ہے اور امریکی فضائیہ کی برقی جنگ کی صلاحیتوں کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ سرد جنگ کے بعد اس شعبے میں دل چسپی کم ہوئی تھی، لیکن یوکرین کی جنگ میں اس کے استعمال نے اسے دوبارہ اہمیت دی۔ تھامس ویڈنگٹن، جو رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں برقی جنگ کے ماہر ہیں، ان کے مطابق “گراؤلر” امریکی فضائیہ کی برقی جنگ کا ستون ہے۔ یہ طیارہ وینزویلا کے ریڈار کی جگہیں شناخت کرنے، انہیں بے اثر بنانے اور فوجی مواصلات میں خلل ڈالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ گذشتہ ہفتے، واشنگٹن نے مختلف طیاروں کے بیڑے روانہ کیے، جن میں F-22، F-35، F-18 لڑاکا طیارے اورB-1 بم بار اور ڈرون شامل تھے۔ اس کا مقصد فضائی دفاع اور مواصلات کو منقطع کرنا تھا تا کہ ڈیلٹا فورس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے گھر سے گرفتار کرے۔ امریکی دفاعی تجزیہ کار نک کیننگھم کے مطابق، واشنگٹن نے وینزویلا کے کمزور اور محدود دفاعی نظام کی وجہ سے آسانی سے فضائی حدود میں داخل ہو کر کارروائی کی۔ وینزویلا کے پاس چینی ریڈار کے ساتھ ساتھ 12 روسی S-300 فضائی دفاعی نظام تھے، جبکہ اسرائیلی فضائیہ پچھلے سال ایران پر حملوں میں اس طرح کے نظاموں کو ناکارہ بنا چکی تھی۔ گراؤلر اور دیگر امریکی طیاروں نے ملک کے قدیم، زیادہ تر سوویت دور کے دفاعی نظاموں کو با آسانی عبور کیا۔ 2008 میں سروس میں آنے والا یہ طیارہ جدید آلات سے لیس ہے، جس میں ریڈار نبضوں کی نقل کر کے دشمن کے ریڈار کو دھوکہ دینے کی صلاحیت اور ریڈار مخالف میزائل شامل ہیں جو دشمن کے ریڈار کا پتہ لگا کر اسے تباہ کرتے ہیں۔ زیادہ تر جدید طیارے اپنی مواصلات کی حفاظت کے لیے برقی جنگ پر انحصار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس میدان میں مضبوط ہے، مگر گراؤلر اپنے بڑے آلات کے ساتھ خصوصی طور پر برقی جنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ طیارہ دو رکنی عملے کے ساتھ آتا ہے، جس میں ایک شخص برقی جنگ کا ماہر ہوتا ہے، اور اس کی قیمت 2021 میں تقریباً 6.7 کروڑ ڈالر تھی۔ سرد جنگ کے بعد برقی جنگ میں دل چسپی کم ہوئی تھی، لیکن یوکرین کی جنگ جسے "تاریخ کی سب سے بڑی برقی جنگ" کہا جاتا ہے، اس نے ملکوں کو نئی صلاحیتیں تیار کرنے کی دوڑ میں لگا دیا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ