گیارہ مختلف ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا کی قائم مقام صدر ديلسی رودریگیز کی حکومت پر ڈالے جانے والے شدید دباؤ کے بعد کیوبا کے سکیورٹی مشیر اور ڈاکٹر وینزویلا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ امریکہ کا مقصد لاطینی امریکہ کے اس اہم ترین بائیں بازو کے اتحاد کو ختم کرنا ہے۔ چار ذرائع کے مطابق رودریگیز نے اپنی حفاظت کی ذمہ داری اب وینزویلا کے باڈی گارڈز کے سپرد کر دی ہے۔ یہ عمل معزول صدر نکولس مادورو اور ان کے پیشرو آنجہانی صدر ہوگو شافیز کے برعکس ہے، جو کیوبا کی ایلیٹ فورسز پر بھروسہ کرتے تھے۔ کیوبا کی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی حملے میں جس کے نتیجے میں مادورو کی گرفتاری عمل میں آئی۔ تین جنوری سنہ 2026ء کو 32 کیوبن باشندے ہلاک ہوئے تھے۔ یہ فوجی اور باڈی گارڈز ایک سخت سکیورٹی معاہدے کے تحت مادورو کی حفاظت پر مامور تھے، جس کے تحت کیوبا کے انٹیلی جنس ایجنٹ وینزویلا کی فوج اور طاقتور فوجی انٹیلی جنس سروس میں تعینات کیے گئے تھے تاکہ اندرونی اپوزیشن کا قلع قمع کیا جا سکے۔ یونیورسٹی آف نیویارک کے پروفیسر اور وینزویلا کے امور کے ماہر الیگزینڈر ویلاسکو کا کہنا ہے کہ اشتراکی حکومت کی بقا کے لیے کیوبا کا اثر و رسوخ انتہائی ضروری تھا۔ وینزویلا کے ایک سابق انٹیلی جنس افسر نے بتایا کہ کچھ کیوبن مشیروں کو فوجی انٹیلی جنس کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے، جبکہ دو ذرائع کے مطابق گذشتہ چند ہفتوں کے دوران سکیورٹی مشیروں اور طبی عملے کی بڑی تعداد فضائی راستے سے کیوبا واپس جا چکی ہے۔ وینزویلا کی حکمراں جماعت کے قریبی ذریعے کا کہنا ہے کہ کیوبن باشندے امریکی دباؤ پر رودریگیز کے حکم سے جا رہے ہیں۔ تاہم دیگر ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا نئی قیادت نے انہیں جانے پر مجبور کیا، وہ اپنی مرضی سے جا رہے ہیں یا ہافانہ نے انہیں واپس بلایا ہے۔ اس سے قبل کیوبن باشندوں کو صدارتی گارڈ اور فوجی انٹیلی جنس سے نکالنے کے فیصلے کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی تھی۔ مادورو کی برطرفی سے قبل ہزاروں کیوبن ڈاکٹر، نرسیں اور اسپورٹس ٹرینر شافیز کے شروع کردہ فلاحی پروگراموں کے تحت وینزویلا میں کام کر رہے تھے، جس کے بدلے وینزویلا کیوبا کو تیل فراہم کرتا تھا۔ امریکی حملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا اور کیوبا کے سکیورٹی تعلقات ختم کرنے کا عہد کیا تھا۔ انہوں نے گیارہ جنوری سنہ 2026ء کو "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ "کیوبا برسوں سے وینزویلا کے تیل اور پیسوں پر پلتا رہا اور بدلے میں وہاں کے آمروں کو سکیورٹی سروسز فراہم کرتا رہا، مگر اب یہ نہیں چلے گا!"۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ امریکہ کے وینزویلا کی قیادت کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور واشنگٹن کا ماننا ہے کہ رودریگیز کے مفادات امریکی اہداف کے مطابق ہیں۔ واشنگٹن کی حکمت عملی ہافانہ کی کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہے، جس کے لیے دسمبر کے وسط میں وینزویلا پر تیل کی ناکہ بندی بھی کی گئی تھی۔ مستقبل کی حکمت عملی ایک باخبر ذریعے کے مطابق، امریکی حملے میں زخمی ہونے والے کچھ فوجی کیوبا واپس جا چکے ہیں، تاہم کچھ تاحال وینزویلا میں متحرک ہیں۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ کیوبا کی موجودگی کم ہو رہی ہے، لیکن کچھ خفیہ ایجنٹ سیاسی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے اب بھی وہیں موجود ہیں۔ سابق امریکی سفیر فرینک مورا کے مطابق رودریگیز انتہائی احتیاط برت رہی ہیں۔ وہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط ہونے تک کیوبا سے فاصلہ رکھنا چاہتی ہیں لیکن انہیں مکمل طور پر چھوڑنا بھی نہیں چاہتیں۔ تاہم، اب بھی کچھ فوجی مشیر اور اساتذہ سکیورٹی اداروں اور پولیس کالج میں کام کر رہے ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ