امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ ’ان کے ملک کی بحریہ اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘ تاہم ان کا یہ بیان منگل کے روز سامنے آنے والے بیان کے برعکس ہے، درحقیقت 48 گھنٹے پہلے انھوں نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے کامیابی سے ایک آئل ٹینکر کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزانے میں مدد فراہم کی ہے۔ امریکی وزیرِ توانائی کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں تھیں، لیکن چند ہی منٹ کے بعد ایکس پر سے اُن کا یہ بیان ڈیلیٹ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ امریکی بحریہ نے دراصل آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی تیل بردار بحری جہاز کو تحفظ رفاہم کرنے کی بات نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کُچھ ہوا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے اس بیان کے مان بعد رالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ہو گیا۔ جمعرات کو خبر رساں ادارے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے رائٹ نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں کو جلد ہی تحفظ فراہم کیا جائے گا لیکن ایسا ابھی نہیں ہو سکتا۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم فی الحال ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس وقت ہماری تمام فوجی طاقت ایران کی جارحانہ صلاحیتوں اور ان صنعتوں کو تباہ کرنے پر مرکوز ہیں جو ان کی جارحانہ کارروائیوں کے لیے سازوسامان فراہم کرتی ہیں۔‘
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ