امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے سپریم کورٹ کا فیصلہ لاقانونیت پر مبنی قرار دیدیا۔ نائب صدر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ عدالتی فیصلہ صاف اور سادہ الفاظ میں قانون شکنی ہے اور اس سے صدر کے لیے امریکی صنعتوں اور سپلائی چین کے تحفظ کو یقینی بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ٹیرف عائد کرنے کے دیگر کئی اختیارات موجود ہیں اور وہ امریکی ورکرز کے دفاع اور انتظامیہ کی تجارتی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے ان اختیارات کو استعمال کریں گے۔ واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ اب ٹیرف کے لیے دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طور پر 10فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق 150 دن کے لیے امریکا درآمد ہونے والی اشیا پر 10فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی، جبکہ بعض اشیا اس عارضی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ مستثنیٰ اشیا میں معدنیات، کھاد، دھاتیں اور توانائی آلات سمیت زرعی مصنوعات، ادویات اور ادویات کا خام مال بھی شامل ہے، نئی ڈیوٹی کا اطلاق امریکا میکسیکو کینیڈا معاہدے پر نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ