امریکا، برطانیہ، یورپی یونین اور مسلم ممالک کے بعد جرمنی اور فرانس نے بھی مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کے فیصلے کی مذمت کر دی۔ اسرائیل میں جرمنی کے سفیر اسٹیفن سیبرٹ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے حالیہ اقدامات "بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں”۔ رام اللہ میں جرمن نمائندے اینکے شلم نے بھی کہا کہ "مغربی کنارے میں نجی زمین کی خریداری اور انتظامیہ کے حصوں کی منتقلی کی اجازت دینے کا اسرائیلی دباؤ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور دو ریاستی حل کی راہ میں مزید رکاوٹ کی نمائندگی کرتا ہے”۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ "مغربی کنارہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا ایک لازمی حصہ ہے،” فرانس کی وزارت برائے یورپ اور خارجہ امور نے مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی "سخت مذمت” کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے اقدامات "مغربی کنارے کے الحاق دو ریاستی حل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ان فیصلوں کو واپس لے اور الحاق کی کسی بھی شکل کے خلاف اپنی سخت مخالفت کا اعادہ کرے۔” امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مغربی کنارے میں اسرائیل کے کنٹرول کے فیصلے کی مخالفت کر دی ہے، جب کہ برطانیہ نے بھی اسرائیل سے فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کے اعلان کے ایک دن بعد وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے پیر کے روز بتایا کہ امریکی صدر اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کے مخالف ہیں۔ اسرائیل کے اقدام کے خلاف عالمی سطح پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے، جس میں یورپی یونین، برطانیہ، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ برطانوی حکومت نے بھی کہا کہ وہ مغربی کنارے پر قبضے کو وسعت دینے کے اسرئیلی کابینہ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، فلسطین کی جغرافیائی ساخت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے، ایسی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہوگی، اسرائیل فیصلہ فوری واپس لے۔ واضح رہے کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول بڑھانے اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں مزید غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے اقدامات پر پاکستان، سعودی عرب اور مصر سمیت 8 اسلامی ممالک، یورپی یونین اور سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے بھی اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ نئے اقدامات کے تحت اسرائیلی شہریوں کے لیے نئی یہودی بستیوں کے قیام کی خاطر زمین حاصل کرنا بھی آسان بنا دیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بستیاں غیر قانونی ہیں۔ پیر کے روز آٹھ مسلم اکثریتی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’غیر قانونی اسرائیلی فیصلے اور اقدامات‘‘ فلسطینی علاقوں پر ’’غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے‘‘ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے کہا کہ یہ اقدامات ’’یہودی بستیوں کی سرگرمیوں کو مضبوط کرنے، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نئی قانونی اور انتظامی حقیقت نافذ کرنے کی کوشش ہیں، جس کے ذریعے اس کے غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی کوششوں کو تیز کیا جا رہا ہے۔‘‘ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، برطانیہ اور اسپین نے بھی بڑھتی ہوئی مذمت میں شمولیت اختیار کی۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق گوتریس نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات ’’عدم استحکام پیدا کرنے والے‘‘ ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
Source: Social Media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ