International

امریکہ ایران کی جانب سے فائر کی جانے والی ہر چیز کو نہیں روک سکتا: امریکی وزیر دفاع

امریکہ ایران کی جانب سے فائر کی جانے والی ہر چیز کو نہیں روک سکتا: امریکی وزیر دفاع

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز تسلیم کیا کہ ایران کی جانب سے ہونے والے کچھ فضائی حملے اپنے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم انہوں نے زور دیا کہ امریکی فوجی برتری تیزی سے اسلامی جمہوریہ کی فضائی حدود پر کنٹرول قائم کر رہی ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی افواج اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ امریکی وزیردفاع نے کہا کہ ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر چیز کو روک سکتے ہیں، لیکن ہم نے حملہ شروع کرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ دفاع اور فورس پروٹیکشن کو یقینی بنایا تھا۔‘ یہ اعتراف کہ ڈرون یا میزائل حملوں سے خطے میں نقصان اور جانی ضیاع ہو سکتا ہے، ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اعلیٰ دفاعی قیادت پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ممکنہ طور پر مزید امریکی ہلاکتیں ہو سکتی ہیں، اور یہ تنازع کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے اسی پریس کانفرنس میں کہا، ’امریکی اہلکار اب بھی خطرے میں ہیں، اور ہمیں حقیقت پسندانہ انداز میں تسلیم کرنا ہوگا کہ خطرہ بدستور زیادہ ہے۔‘ اتوار کو ایران کے ایک ڈرون حملے میں کویت کی ایک شہری بندرگاہ کے اندر قائم آپریشن سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ یہ مقام مرکزی فوجی اڈے سے کئی میل دور تھا۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں میں سے ایک کے شوہر، جو آئیووا میں قائم سپلائی اور لاجسٹکس یونٹ سے تعلق رکھتی تھیں، کے مطابق یہ مرکز کنٹینر نما عمارت پر مشتمل تھا اور اس میں کوئی دفاعی انتظام موجود نہیں تھا۔ پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ جنگ کا دورانیہ ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی اندازوں سے زیادہ طویل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آٹھ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے، تاہم امریکہ کے پاس طویل جنگ میں ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے مطلوبہ اسلحہ اور سازوسامان موجود ہے۔ انہوں نے واضح مدت بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ جنگ کا دورانیہ حالات پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’آپ چار ہفتے کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ چھ بھی ہو سکتے ہیں، آٹھ بھی، یا تین۔ بالآخر رفتار اور حکمتِ عملی ہم طے کرتے ہیں۔ دشمن دباؤ میں ہے اور ہم اسے اسی حالت میں رکھیں گے۔‘ پیٹ ہیگستھ کے مطابق مزید فوجی دستے، جن میں لڑاکا طیارے اور بمبار شامل ہیں، خطے میں پہنچ رہے ہیں اور امریکہ کامیابی یقینی بنانے کے لیے جتنا وقت درکار ہوگا، لے گا۔ دوسری جانب تہران نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اور معاشی ڈھانچے کو مکمل تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ جنگ جلد ختم ہونے والی نہیں اور مزید پھیل سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس ہفتے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگی مہم ممکنہ طور پر چار سے پانچ ہفتے جاری رہ سکتی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments