ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے آج جمعہ کے روز رات بھر ملک میں پھیلنے والے احتجاجات کے بارے میں اپنی خاموشی توڑ دی۔ سرکاری ٹیلی وژن نے ہلاکتوں کی اطلاع دیتے ہوئے دعوی کیا کہ امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ “دہشت گرد ایجنٹوں” نے آگ زنی کی اور تشدد کو ہوا دی۔ صبح آٹھ بجے کے نیوز بلیٹن میں نشر ہونے والی مختصر رپورٹ ان مظاہروں کے بارے میں پہلی سرکاری خبر تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ احتجاجات کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے جن کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا، تاہم اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ احتجاج کے دوران شہریوں کی ذاتی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور عوامی مقامات کو آگ لگائی گئی، جن میں میٹرو، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور بسیں شامل ہیں۔ ادھر ایرانی مظاہرین جمعہ کی صبح تک نعرے لگاتے رہے اور سڑکوں پر مارچ کرتے رہے، حالانکہ اس دوران انٹرنیٹ اور بین الاقوامی فون کالز معطل رہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختصر ویڈیوز میں، جنہیں ایسے کارکنوں نے شیئر کیا جو خود کو مظاہرین قرار دیتے ہیں، حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے افراد کو جلتی ہوئی آگ کے گرد جمع دکھایا گیا، جبکہ دارالحکومت تہران اور دیگر علاقوں کی سڑکوں پر ملبہ بکھرا ہوا نظر آیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے احتجاجات سے نمٹنے میں انتہائی ضبطِ نفس کی اپیل کی۔ انہوں نے کسی بھی قسم کے پرتشدد یا جبری طرزِ عمل سے گریز، اور مکالمے، رابطے اور عوام کے مطالبات کو سننے کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسری جانب، تنظیم “ایران ہیومن رائٹس” نے اعلان کیا کہ دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے احتجاجات کے دوران سکیورٹی فورسز نے کم از کم 45 مظاہرین کو ہلاک کیا، جن میں آٹھ کم عمر افراد بھی شامل ہیں۔ تنظیم کے مطابق گزشتہ بدھ کا دن احتجاجات کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ خونریز ثابت ہوا، جب 13 مظاہرین مارے گئے۔ تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے کہا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ کریک ڈاؤن کا دائرہ روز بروز زیادہ پرتشدد اور وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ اگر ضروری سمجھا گیا تو امریکہ ایرانی قیادت پر “زبردست حملہ” کر سکتا ہے۔ فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، اس سوال کے جواب میں کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو کیا واشنگٹن طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہے، ٹرمپ نے کہا: “میں نے کہا ہے کہ اگر انہوں نے ان لوگوں یعنی ایرانیوں کے ساتھ کچھ برا کیا تو ہم انہیں سختی سے نشانہ بنائیں گے۔ میں نے یہ بات بہت واضح انداز میں کہی ہے۔” اس سے قبل 2 جنوری کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ ایران میں پرامن مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف، ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے خبردار کیا کہ ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی اور خطے میں واشنگٹن کے تمام مفادات کو تباہ کر دے گی۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ