متحدہ عرب امارات میں حکومت نے عوام کو فیصلوں میں براہِ راست شامل کرنے کےلیے ایک نئی سرکاری اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے نئے سرکاری ادارے ’کمیونٹی مینیجڈ ورچوئل اتھارٹی‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے، جسے مکمل طور پر اماراتی شہری خود چلائیں گے۔ نئے نظام کے تحت عام شہری، ماہرین، نوجوان، کاروباری افراد اور ریٹائرڈ لوگ باری باری کمیونٹی ورچوئل اتھارٹی کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ جس میں اماراتی افراد کو روایتی انتخابات کے بجائے اہلیت، تجربے اور صلاحیت کی بنیاد پر منتخب کیا جائے۔ اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق، اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو صرف ووٹ دینے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں براہِ راست فیصلے کرنے میں شریک کیا جائے۔ نئی اتھارٹی ایسے منصوبے تیار کرے گی جو فوری طور پر نافذ کیے جا سکیں گے اور جن سے عوام کی زندگی بہتر ہو۔ یہ نظام عوامی مشاورت اور شراکت پر مبنی ہوگا، جسے ماہرین ایک جدید اور شراکتی جمہوری ماڈل قرار دے رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے طریقۂ کار سے بہتر فیصلے ہوں گے اور عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ