International

الجزائر: رمضان کی خیرات کی فوٹوگرافی پر پابندی سے سوشل میڈیا پر ہنگامہ

الجزائر: رمضان کی خیرات کی فوٹوگرافی پر پابندی سے سوشل میڈیا پر ہنگامہ

ایک الجزائری عہدیدار نے رمضان کے دوران امدادی پیکجز جو " رمضان کی خیرات" کے نام سے جانے جاتے ہیں، کی فوٹوگرافی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا، جس نے ملک میں وسیع تنازعہ کھڑا کر دیا۔ اس فیصلے نے الجزائری عوام کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا: کچھ افراد نے اسے شہری کی عزت و وقار کے تحفظ کے لیے درست قرار دیا، جبکہ دیگر نے فوٹوگرافی کی ضرورت کو دوسروں کو عطیہ کرنے کی ترغیب دینے کے طور پر جائز سمجھا۔ تفصیلات کے مطابق شہر وہران (جو دارالحکومت الجزائرسے 400 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے) کے گورنر ابراہیم اوشان نے رمضان کے حوالے سے ہدایات جاری کیں۔ ان ہدایات میں بے گھر افراد کو ماہ رمضان کے دوران روزانہ کھانا فراہم کرنا اور 62 افطار کے لیے کھانے کی فراہمی والے ریسٹورنٹس کی نگرانی اور گنتی شامل تھی تاکہ روزہ داروں کو فراہم کی جانے والی خدمات کی معیار کی ضمانت دی جا سکے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے بلدیات اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ " رمضان کی خیرات" کی تقسیم کی کارروائی کی فوٹوگرافی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیں۔ رمضان کی خیرات الجزائری حکام اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے غریب اور محتاج افراد کے لیے جاری کیے جانے والے انسانی اقدامات میں سے ایک ہے۔ یہ دراصل ایسے پیکجز ہیں ،جن میں رمضان کے مہینے میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی بنیادی خوراکی اشیاء شامل ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر کئی افراد نے اس پابندی کو عوامی مطالبات کے مطابق درست قرار دیا، تاکہ امداد حاصل کرنے والے افراد کی عزت و وقار برقرار رہے۔ دوسری جانب کچھ صارفین نے کہا کہ یہ فیصلہ من مانانہیں ہونا چاہیے، کیونکہ کئی فلاحی تنظیمیں خیرات کے کام کے لیے قفہ رمضان کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتی ہیں، تاکہ دوسروں کو بھی عطیات دینے اور خیرات کرنے کی ترغیب ملے۔ سوشل ورک کے ماہر عبد الحفیظ صندوقی نے بتایا:الجزائر کے لوگ رغبت کے ساتھ رمضان میں خیرات اور صدقہ دینے کی طرف بڑھتے ہیں، چاہے یہ فرداً فرداً ہو یا کسی تنظیم کے تحت۔ انہوں نے مزید کہا: اس خیراتی عمل کے ساتھ ہمیشہ عطیہ دینے والے کی نرمی اور احترام شامل ہوتا ہے، جسے امداد حاصل کرنے والے بھی پسند کرتے ہیں۔ کوئی بھی اپنی غربت یا مدد حاصل کرنے کا فخر نہیں کرتا، اس لیے مستفید افراد کی شناخت ظاہر کرنا ان کے لیے سماجی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہر نے واضح کیا کہ:وہ فلاحی تنظیمیں جو عطیات دینے اور امداد فراہم کرنے کی ترغیب دینا چاہتی ہیں، وہ اپنی روزانہ کی سرگرمیوں کی فوٹوگرافی کر سکتی ہیں، جیسے کھانے تیار کرنا اور تقسیم کرنا، لیکن بغیر مستفید افراد کی شناخت ظاہر کیے یا علاقوں اور محلے بتائے جن میں تقسیم کی گئی تاکہ خاندانوں کا پتا چل سکے۔ انہوں نے کہا:کچھ محتاج افراد شدید ضرورت کی وجہ سے فوٹوگرافی یا کیمرے کے سامنے بات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو کہ درست نہیں کیونکہ یہ عمل عطیہ دینے والوں کو تو بڑھا سکتا ہے مگر مستفید افراد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ فلاحی تنظیم "الوئام" کے رضاکار سمیر صحراوی نے کہا:ہم رمضان کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ ضرورت مندوں کی درخواستیں پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، نہ صرف رمضان کی خیرات کے ذریعے، بلکہ افطار کے لیے کھانے کی فراہمی اور گروپ افطار کے پروگراموں کے ذریعے بھی۔ صحراوی نے مزید کہا: ہر ماہ ہم شہری علاقوں میں بڑی تعداد میں امداد کی تیاری کرتے ہیں اور اس میں ہم عطیہ دہندگان کے ساتھ براہِ راست تعاون کرتے ہیں۔ جہاں تک تنظیم کی سوشل میڈیا حکمت عملی کا تعلق ہے، صحراوی نے کہا:ہم اپنی خیراتی سرگرمیوں کی تمام معلومات سارا سال شائع کرتے ہیں، نہ صرف رمضان میں۔ لیکن ہم کبھی بھی مستفید افراد کی ذاتی معلومات ظاہر نہیں کرتے اور اس بات کا سخت خیال رکھتے ہیں کہ ایسی کوئی تصویر منظر عام پر نہ آئے جس سے وہ پہچانے جا سکیں، کیونکہ یہ ایک انسانی اور خیراتی عمل ہے اور اسے ایسے ہی رہنا چاہیے۔ انہوں نے اختتام میں وضاحت کی:تنظیم اور اس کے فالوورز کے درمیان شفافیت کا مطلب یہ نہیں کہ مستفید افراد کی شناخت بھی ظاہر کی جائے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments