الجزائر کی نظامت تعلیم نے تینوں تعلیمی مراحل (پرائمری، مڈل اور سیکنڈری) کے ان طلبہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائیوں کا فیصلہ کیا ہے جو کلاس رومز کے اندر موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ فیصلے کے تحت موبائل فون ضبط کر لیے جائیں گے اور تعلیمی سال کے اختتام تک واپس نہیں کیے جائیں گے، جس نے طلبہ، والدین، اساتذہ اور انتظامیہ کے درمیان ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ ثانوی تعلیمی اداروں کے اندرونی ضابطہ اخلاق میں کلاس رومز اور ان کے گرد و نواح میں سمارٹ فونز کے استعمال یا فوٹو گرافی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ صوبائی نظامت تعلیم کے حکام نے اس سے قبل انتہائی تادیبی کارروائی کے طور پر فون چھین کر والدین کے حوالے کرنے کا طریقہ اپنا رکھا تھا، تاہم اب اسے مزید سخت کرتے ہوئے تعلیمی سال کے اختتام یعنی 30 سنہ 2026ء تک فون ضبط رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے نے الجزائر میں شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کے درمیان بحث کی ایک لہر پیدا کر دی ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ تعلیمی کلاسوں کے اندر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے یہ ایک ضروری تادیبی اور روک تھام کا اقدام ہے۔ دوسری جانب کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ موبائل فون طلبہ اور ان کے والدین کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے اور اسے چھیننے سے والدین پر نئے بوجھ پڑیں گے۔ اس حوالے سے والدین کی انجمن کے رکن ناصر جیلانی نے کہا کہ ہم والدین اور طلبہ کے نمائندوں کے طور پر تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور اساتذہ کے ساتھ معاملات میں انصاف پسند رہنے کی کوشش کرتے ہیں، خاص طور پر جب تعلیمی یا سماجی تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ قانونی پہلو سے دیکھا جائے تو تعلیمی اداروں کی انتظامیہ ان طلبہ کے موبائل فون ضبط کرنے میں حق بجانب ہے جو کلاس رومز میں فون استعمال کرتے ہیں یا تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض اساتذہ کی جانب سے مبینہ زیادتی کے خدشے کا بھی اظہار کیا کہ کہیں محض کلاسوں کے درمیانی وقفے میں یا والدین سے رابطے کے لیے فون نکالنے پر ہی اسے ضبط نہ کر لیا جائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ دور میں بہت سے طلبہ اپنی رہائش گاہوں سے دور تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ ناصر جیلانی نے مطالبہ کیا کہ موبائل فون چھیننے اور ضبط کرنے کے معاملات میں مبالغہ آرائی کے بجائے محتاط رویہ اختیار کیا جائے، تاکہ یہ اقدام جس کا اصل مقصد تعلیمی اصلاح ہے، والدین کے لیے بوجھ نہ بن جائے۔ دوسری جانب تعلیمی ماہر عمار بلحسن کا ماننا ہے کہ سمارٹ فون تعلیمی اداروں کے اندر طالب علم کے رویے پر بری طرح حاوی ہو چکا ہے، جہاں سوشل میڈیا کی لت اور مواد سازی کا جنون کلاس روم تک ان کا پیچھا کرتا ہے۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ موبائل فون سے طلبہ کے لگاؤ کی وجہ سے اساتذہ اور تعلیمی عملہ انہیں کنٹرول کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ ریکارڈ کیے گئے رویوں میں دورانِ کلاس مسلسل سوشل میڈیا اکاؤنٹس چیک کرنا، ساتھیوں اور اساتذہ کی تصاویر بنانا، موسیقی سننا یا فلمیں اور ڈرامے دیکھنا شامل ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ