International

اجمیر میں کرسچن گنج کا نام بدل کر کرشن گنج کر دیا گیا

اجمیر میں کرسچن گنج کا نام بدل کر کرشن گنج کر دیا گیا

اجمیر: کرسچن گنج پولیس اسٹیشن اور کرسچن گنج چوکی اب 'کرشن گنج' کے نام سے جانی جائے گی۔ راجستھان کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے اسمبلی اسپیکر واسودیو دیونانی کی ہدایت پر نام کی تبدیلی کا حکم جاری کیا۔ مقامی باشندوں کے مبینہ مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے دیونانی نے محکمہ پولیس کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ دیونانی نے کہا کہ یہ اقدام 'سناتنی ثقافت' کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اس سے پہلے اجمیر میں غلامانہ ذہنیت کی علامت والے نام تبدیل کیے گئے تھے۔ یہ حکم محکمہ داخلہ کے انسپکٹر جنرل دیپک کمار کی ہدایات پر جاری کیا گیا ہے۔ اسمبلی کے اسپیکر واسودیو دیونانی نے کہا کہ 'یہ اقدام شہر کی تاریخ اور اس میں تعاون کرنے والی شخصیات کے اعزاز کے لیے شروع کیا گیا ہے، اور یہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ اس سے شہر کی شناخت اس کی عظیم شخصیات اور تاریخی خدمات سے مزید مضبوطی سے جڑ سکتے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں غلامی کی علامت فوئے ساگر کا نام ورون ساگر اور کنگ ایڈورڈ میموریل کا نام بدل کر مہارشی دیانند وشواشانتی گرہ رکھ دیا گیا۔ ہوٹل خادم کا نام بھی بدل کر ہوٹل اجےمیرو رکھ دیا گیا۔ اسی طرح ایلیویٹڈ روڈ کا نام بدل کر 'رام سیتو' کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ علاقے مکینوں کے دیرینہ مطالبے کے جواب میں کیا گیا۔ اسمبلی اسپیکر واسودیو دیونانی نے متعلقہ محکموں سے مشاورت کے بعد ضروری کارروائی کی ہدایت دی۔ چنانچہ محکمہ داخلہ نے نام کی تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ واسودیو دیونانی نے کہا کہ نیا نام 'کرشن' خطے کی ثقافتی شناخت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ یہ عوامی جذبات کی نمائندگی کرتا ہے۔ ''کرشن نام بھارت کی سناتن ثقافت، آستھا، محبت، اخلاقیات اور قوم کی روح کی علامت ہے۔ یہ نام خطے کو ایک نئی شناخت دے گا'' انہوں نے کہا۔ نام کی تبدیلی کے بعد، نیا نام، کرشنا گنج، پولیس ریکارڈ، سائن بورڈ، سرکاری دستاویزات، اور تمام سرکاری مواصلات میں دکھایا جائے گا۔ کرشنا گنج پولیس اسٹیشن حلقے میں تقریباً 150,000 لوگوں رہتے ہیں اور کئی کلومیٹر کے وسیع علاقے پر محیط ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments