International

آگ کے سائے میں مذاکرات نہیں ہوں گے: ایران، ٹرمپ کا ثالثی کی کوششوں سے انکار

آگ کے سائے میں مذاکرات نہیں ہوں گے: ایران، ٹرمپ کا ثالثی کی کوششوں سے انکار

تین باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کی ان سفارتی مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کوششوں کا مقصد ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ تھا۔ یہ جنگ دو ہفتے قبل امریکہ اور اسرائیل کے وسیع فضائی حملے سے شروع ہوئی تھی اور آج بھی جاری ہے۔ دو سینئر ایرانی ذرائع نے بتایا کہ تہران نے امریکی اور اسرائیلی حملے رکنے تک کسی بھی جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ کئی ملکوں نے تنازع کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوشش کی ہے۔ دو ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سلطنت عمان، جس نے جنگ سے پہلے مذاکرات میں ثالثی کی تھی، نے بارہا رابطے کی راہیں کھولنے کی کوشش کی لیکن وائٹ ہاؤس نے واضح کر دیا کہ اسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ نے مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے اور ان کی توجہ تہران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے جنگ کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔ اہلکار نے کہا کہ انہیں ابھی اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور ہم اپنا مشن بلا تعطل جاری رکھیں گے۔ شاید ایسا کوئی دن آئے لیکن ابھی نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ رات ایران کے تیل کی برآمدات کے اہم مرکز جزیرہ خارگ پر امریکی حملے ٹرمپ کے فوجی حملے کو جاری رکھنے کے عزم کا پتا دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ واشنگٹن اور تہران کی عدم دلچسپی اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق طویل مدتی تنازع کے لیے تیار ہیں۔ جنگ کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے جس میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے آبنائے کو بند رکھنے کا عہد کیا ہے اور پڑوسی ملکوں پر حملوں میں اضافے کی دھمکی بھی دی ہے۔ جنگ کے نتیجے میں اب تک 2,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت ایران میں ہے۔ اس جنگ نے خام تیل کی فراہمی میں تاریخ کا سب سے بڑا خلل پیدا کر دیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت رک گئی ہے۔ اس آبنائے سے دنیا کے پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز انکشاف کیا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے سب سے بڑے حملے جزیرہ خارگ پر کیے ہیں اور وہاں کے تیل کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف ایرانی فوج نے ہفتے کے روز دھمکی دی کہ اگر ٹرمپ نے جزیرہ خارگ پر حملہ کیا تو وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی تیل کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملہ کریں گے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments