Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

پلاسٹک پر پابندی لگنے کے بعد آمدنی کےلئے خواتین نے گڑہل کے پھولوں کا استعمال شروع کر دیا

Admin
By Admin
Oct 28, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BAGRESHWAR BABA KI TASVEER JALANE PAR CM SUVENDU ADHIKARI SAKHT, KOLKATA POLICE KO ARRSTE KA DIYA HUKM

پلاسٹک پر پابندی لگنے کے بعد آمدنی کےلئے خواتین نے گڑہل کے پھولوں کا استعمال شروع کر دیا
پلاسٹک پر پابندی لگنے کے بعد آمدنی کےلئے خواتین نے گڑہل کے پھولوں کا استعمال شروع کر دیا — October 28, 2026
پلاسٹک پر پابندی لگنے کے بعد آمدنی کےلئے خواتین نے گڑہل کے پھولوں کا استعمال شروع کر دیا
پلاسٹک کے استعمال پر پابندیوں کے باعث مشرقی بردوان کے کٹوا اور کیتوگرام (Ketugram) کے مالا بنانے والے کاریگروں میں امید کی نئی کرن جاگی ہے۔ کالی پوجا کے پیش نظر ماحول دوست کپڑے سے سرخ گڑہل کے پھولوں کی مالائیں تیار کرنے میں کئی گاو¿ں کے دستکار خاندان ان دنوں بے حد مصروف ہیں۔ گھر بیٹھے مالائیں بنا کر بہت سی گھریلو خواتین کے لیے آمدنی کا راستہ کھل گیا ہے۔ اضافی آرڈر ملنے سے ان کے چہروں پر خوشی نظر آ رہی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، کیتوگرام کے شاخائی گاو¿ں اور کٹوا کے پانوہاٹ، بن گرام سمیت مختلف علاقوں کے کئی خاندان مصنوعی پھول اور مالائیں بنانے کے کام سے وابستہ ہیں۔ سرخ مخملی کپڑے کو کاٹ کر گڑہل کے پھول بنائے جا رہے ہیں۔ ان پھولوں کو دھاگے میں پرو کر 51 اور 108 پھولوں والی مالائیں تیار کی جاتی ہیں۔ دیوالی کے موقع پر پوجا کے سامان کے طور پر ان مالاو¿ں کی خاصی مانگ رہتی ہے۔ کٹوا میں تیار ہونے والی مالائیں صرف سب ڈویڑن کی منڈیوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ انہیں ریاست کے مختلف اضلاع اور دور دراز علاقوں میں بھی بھیجا جاتا ہے۔
شاخائی گاو¿ں کی گھریلو خواتین ہینا رائے اور جبا برمن نے بتایا کہ وہ فارغ وقت میں کپڑے کاٹ کر پہلے پھول تیار کرتی ہیں۔ اس کے بعد ان پھولوں کو دھاگے میں پرو کر مالائیں بنائی جاتی ہیں۔دوسری جانب، کٹوا کے درگا گرام میں سنیل داس کا خاندان بھی طویل عرصے سے اس صنعت سے وابستہ ہے۔ سنیل نے کہا، ”اس بار کالی پوجا کے لیے مختلف علاقوں سے آرڈر ملے ہیں۔ امید ہے کہ اس مرتبہ کم از کم کچھ منافع کمانے کا موقع ملے گا۔“
کاریگروں کے ہاتھوں سے تیار ہونے والی ان مالاو¿ں میں رنگین کپڑے، پٹ سن، زری، ریشم کے دھاگے اور شیٹ پیپر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کہیں لکڑی کی مشین سے دھاگے بٹے جاتے ہیں تو کہیں ہاتھوں سے پھولوں کو پرو کر مالائیں بنائی جاتی ہیں۔ بعد میں انہیں تھوک قیمت پر دس کرما کی دکانوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔
کاریگروں کے اندازے کے مطابق، کپڑے کی ایک درجن مالاو¿ں کی قیمت تقریباً 100 سے 150 روپے ہے۔ وہ روزانہ 25 سے 50 درجن تک مالائیں تیار کرتے ہیں۔کاریگروں کو امید ہے کہ پلاسٹک کے متبادل کے طور پر کپڑے کی مالاو¿ں کا استعمال بڑھنے سے نہ صرف ماحول کے تحفظ میں مدد ملے گی، بلکہ دیہی خواتین دستکاروں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔

پلاسٹک پر پابندی لگنے کے بعد آمدنی کےلئے خواتین نے گڑہل کے پھولوں کا استعمال شروع کر دیا...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn