انجیکشن کی وجہ سے نہیں، بلکہ چھوٹی آنت میں سوراخ ہونے کے سبب میڈیکل کالج میں ہوئی تھی بچے کی موت، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اشارہ
غلط انجیکشن کی وجہ سے نہیں، بلکہ چھوٹی آنت میں سوراخ ہونے کے سبب میڈیکل کالج میں 11 سالہ بچے پون یادو کی موت ہوئی تھی۔ منگل کے روز بچے کی لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی ابتدائی معلومات سے کولکاتا میڈیکل کالج کے ذرائع نے یہ بات بتائی۔ ذرائع کے مطابق، ابتدائی رپورٹ میں چھوٹی آنت میں سوراخ کو موت کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، اس موت کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں بھی غلط علاج کی وجہ سے پون کی موت ہونے کے دعوے کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ اتوار کو 11 سالہ پون کی موت کے بعد کولکاتا میڈیکل کالج کے ’مدر اینڈ چائلڈ ہب‘ احاطے میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ متوفی کے والد نریش یادو نے الزام لگایا تھا کہ اتوار کی صبح تقریباً 10 بجے ان کی بیوی بیٹے کو پیٹ میں شدید درد کی شکایت کے ساتھ لے کر پہنچی تھیں۔ اس کے بعد پون کو پہلے ’ڈروٹن‘ نام کا انجیکشن دیا گیا۔ پہلا انجیکشن لگنے کے کچھ دیر بعد بچے کو ’رینٹیک آئی ایم‘ نام کا دوسرا انجیکشن دیا گیا۔ الزام تھا کہ دوسرا انجیکشن لگنے کے بعد ہی بچہ شاک میں چلا گیا اور اس کی موت ہوگئی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر وزیر صحت شردوت مکھوپادھیائے کولکاتا میڈیکل کالج پہنچے تھے۔ ان کی ہدایت پر ڈاکٹر راکیش منڈل کی قیادت میں چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی، جسے علاج میں لاپروائی کے الزامات کی جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کر چکی ہے۔ کولکاتا میڈیکل کالج کے ذرائع کے مطابق، تحقیقاتی رپورٹ میں بھی غلط علاج کے دعوے کو مسترد کیا گیا ہے۔ متوفی بچے کو دیے گئے انجیکشن کے بیچ نمبر کی جانچ کے بعد کمیٹی نے رپورٹ میں بتایا کہ اسی بیچ کے انجیکشن دوسرے مریضوں کو بھی دیے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مریضوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔منگل کے روز متوفی بچے کی پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ پولیس کو موصول ہوئی۔ رپورٹ سے واقف کولکاتا میڈیکل کالج کے بعض ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس میں ذکر ہے کہ بچے کی چھوٹی آنت میں حال ہی میں سوراخ ہوگیا تھا۔ ڈاکٹروں کا اندازہ ہے کہ یہ جسمانی مسئلہ کم از کم چار سے پانچ دن پہلے پیدا ہوا تھا۔ پوسٹ مارٹم کے دوران بچے کے پیٹ میں بڑی مقدار میں پیپ بھی پائی گئی۔
ڈاکٹروں کے مشاہدے کے مطابق، انفیکشن کے باعث چھوٹی آنت میں سوراخ ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں خون میں انفیکشن پھیلنے یعنی ’سیپسس‘ کی وجہ سے بچہ شاک میں چلا گیا۔ طبی اصطلاح میں اس کیفیت کو ’انٹسٹائنل پرفوریشن‘ کہا جاتا ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے ماہرِ اطفال ڈاکٹر جے دیب رائے نے بتایا کہ 11 سالہ بچے کی چھوٹی آنت میں سوراخ ہونے کے واقعات عام طور پر نہیں دیکھے جاتے۔ اس کے پیچھے کئی جسمانی مسائل ہوسکتے ہیں۔ تاہم، کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ چھوٹی آنت میں سوراخ ہونے کے بعد انفیکشن پیدا ہوا تھا یا انفیکشن کے نتیجے میں آنت میں سوراخ ہوا۔ماہرِ اطفال ڈاکٹر جے دیب کے مطابق، چھوٹی آنت میں سوراخ ہونے کی ایک بنیادی وجہ جسم میں السر کی موجودگی ہے۔السر کن وجوہات سے ہوسکتا ہے؟ اس بارے میں ڈاکٹر جے دیب نے بتایا کہ اس کی ایک بڑی وجہ ہیلیکوبیکٹر پائلوری نامی جرثومے کا انفیکشن ہوسکتا ہے، جس کا تعلق کھانے پینے کی عادات سے بھی ہے۔ آلودہ پانی، غیر صحت بخش اور زیادہ مصالحے دار کھانے کی عادت بھی السر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ بے قاعدہ کھانے پینے کی عادت سے بھی اس طرح کے جسمانی مسائل پیدا ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔چھوٹی آنت میں سوراخ ہونے کی دوسری وجہ ڈاکٹروں کے مشورے کے بغیر بار بار درد کی دوائیں استعمال کرنا بھی ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر جے دیب نے کہا، ”اسٹیرائڈز کے استعمال سے چھوٹی آنت کو نقصان پہنچنے کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے۔ بعض اوقات ٹائیفائڈ کی وجہ سے بھی ایسا ہوسکتا ہے۔“
کولکاتا میڈیکل کالج کے ذرائع کے مطابق، پون کو اتوار کے روز پیٹ میں درد کے ساتھ دو سے تین دن سے بخار ہونے کی وجہ سے شعب? اطفال میں داخل کرایا گیا تھا۔ میڈیکل کالج کے بعض ڈاکٹر کھانے پینے کی عادات کے سبب چھوٹی آنت کو پہنچنے والے نقصان کے امکان پر زور دے رہے ہیں۔تاہم، ماہرِ اطفال ڈاکٹر جے دیب نے کھانے پینے کی عادات اور ٹائیفائڈ کے علاوہ ایک اور امکان کی جانب بھی اشارہ کیا۔ ان کے مطابق، ”گردے اور جگر کی طویل عرصے سے جاری بیماریوں کی وجہ سے بھی چھوٹی آنت میں سوراخ ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ طبی تاریخ میں تپِ دق یا خون کی نالیوں میں سوزش کے باعث بھی اس طرح کی کیفیت سامنے آنے کی مثالیں موجود ہیں۔“
ایسی صورتِ حال میں کولکاتا میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی معاملے کی مزید وضاحت ہوسکے گی۔
پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے حوالے سے متوفی کے رشتہ دار راجیش پرساد نے بتایا کہ اتوار کے واقعے کے بعد پون کے والد کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اور وہ اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ اہلِ خانہ کو ابھی تک پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔ راجیش کا کہنا ہے کہ پون کی کھانے پینے کی عادات میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے اہلِ خانہ نے بھی اس بات کی تردید کی تھی کہ بچے کو اس طرح کا کوئی جسمانی مسئلہ پہلے سے لاحق تھا۔
انجیکشن کی وجہ سے نہیں، بلکہ چھوٹی آنت میں سوراخ ہونے کے سبب میڈیکل کالج میں ہوئی تھی بچے کی موت، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اشارہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments