Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

پولس کو اس کا ہاتھ باندھ کر لے گئی تھی تو پھر اس نے بندوق کیسے چھینی؟انکاﺅنٹر پر متوفی کی ماں کا سوال

Admin
By Admin
Oct 28, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

پولس کو اس کا ہاتھ باندھ کر لے گئی تھی تو پھر اس نے بندوق کیسے چھینی؟انکاﺅنٹر پر متوفی کی ماں کا سوال
پولس کو اس کا ہاتھ باندھ کر لے گئی تھی تو پھر اس نے بندوق کیسے چھینی؟انکاﺅنٹر پر متوفی کی ماں کا سوال — October 28, 2026
پولس کو اس کا ہاتھ باندھ کر لے گئی تھی تو پھر اس نے بندوق کیسے چھینی؟انکاﺅنٹر پر متوفی کی ماں کا سوال
شمالی 24 پرگنہ کے گائگھاٹا میں ہونے والے ’انکاو¿نٹر‘ پر سوال اٹھاتے ہوئے نابالغ لڑکی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے ملزم پرہلاد داس کی ماں ریکھا داس نے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پیر کی رات واقعے کی ازسرنو تشکیل کے لیے جب پرہلاد کو گھر لایا گیا تھا، تب اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ پرہلاد کی ماں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس حالت میں ان کا بیٹا پولیس کی بندوق کیسے چھین سکتا تھا اور گولیاں کیسے چلا سکتا تھا۔ انہوں نے بیٹے کی موت کے معاملے میں انصاف کے ساتھ معاوضے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
خاندان کا کہنا ہے کہ اگر پرہلاد نے جرم کیا تھا تو قانون کے مطابق اسے سزا ملنی چاہیے تھی۔ وہ بھی یہی چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے بار بار تھانے جا کر پولیس سے درخواست بھی کی تھی۔ لیکن اہل خانہ اب تک پولیس کی گولی سے بیٹے کی موت کو قبول نہیں کر پا رہے ہیں۔ بدھ کے روز پرہلاد کی ماں نے کہا، ”اس لڑکی کا بھی قتل ہوا ہے اور میرے بیٹے کا بھی قتل ہوا ہے۔ ہم معاوضہ چاہتے ہیں۔“
پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پیر کی نصف شب واقعے کی ازسرنو تشکیل کے دوران پرہلاد نے بندوق چھین کر گولی چلائی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس بارے میں پرہلاد کی ماں نے کہا، ”رات دو بجے جب وہ میرے بیٹے کو گھر لائے تو اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ پانچ پولیس افسران تھے۔ وہ پستول کیسے نکال کر گولی چلائے گا؟ آپ لوگ ذرا سوچ کر دیکھیے!“
پرہلاد کی ماں نے بتایا کہ علاقے کے لوگوں سے ان کے بیٹے کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے پر ساری حقیقت معلوم ہو سکتی ہے۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ وہ اب تک اس بات پر یقین نہیں کر پا رہا کہ نرم مزاج پرہلاد پولیس سے بندوق چھین کر گولیاں چلا سکتا تھا۔ پرہلاد کی ماں نے بیٹے کی ذاتی زندگی پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا سوال ہے کہ ان کے بیٹے کے بلانے پر وہ لڑکی کیوں آئی تھی؟ انہوں نے اس بات پر بھی شک ظاہر کیا کہ آیا دونوں کے درمیان محبت کا کوئی رشتہ تھا یا نہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق، پرہلاد نے گوبرڈانگا ہندو کالج میں دوسرے سال تک تعلیم حاصل کی تھی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ شادی کی بات ہونے پر وہ کہتا تھا کہ پہلے اپنا گھر بنائے گا، اس کے بعد شادی کرے گا۔ پرہلاد کی ماں کا دعویٰ ہے کہ انہیں کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ ان کا بیٹا کوئی غلط کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹے کی آخری رسومات کے بعد سے وہ جسمانی اور ذہنی طور پر بیمار ہو گئی ہیں۔
گائگھاٹا واقعے کے ملزم پرہلاد کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے باراسات میڈیکل کالج بھیجی گئی تھی۔ منگل کی رات پوسٹ مارٹم کے بعد پرہلاد کی لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی۔ اس موقع پر اس کے والد رام پرساد داس بھی موجود تھے۔ بیٹے کی لاش پر پھولوں کی مالا چڑھاتے ہوئے وہ رونے لگے۔ انہوں نے کہا، ”میرا کلیجہ پھٹا جا رہا ہے! میں جانتا ہوں کہ میرے بیٹے نے انتہائی سنگین جرم کیا ہے، جسے معاف نہیں کیا جا سکتا۔“
اس کے بعد انہوں نے کہا، ”سب کچھ جاننے کے باوجود میں کہہ رہا ہوں کہ اس طرح بے رحمی سے قتل کرنے کے بجائے افسران اسے عمر قید کی سزا دے سکتے تھے۔ میں اس موت کو قبول نہیں کر پا رہا ہوں۔ مجھے چھوڑ دیجیے! اب میں مزید کچھ نہیں کہہ سکتا۔“
گزشتہ ہفتے سنیچر کو گائگھاٹا تھانے کے علاقے میں رہنے والی 17 سالہ لڑکی اپنے گھر کے قریب منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام دیکھنے گئی تھی۔ اس کے دوست اور اہل خانہ بھی وہاں موجود تھے۔ پروگرام رات گئے تک جاری رہا۔ لڑکی کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے اسے ایک فون آیا۔ فون آنے کے بعد وہ پروگرام چھوڑ کر باہر چلی گئی، لیکن پھر واپس نہیں لوٹی۔ رات کو اس کے گھر نہ پہنچنے پر اہل خانہ پریشان ہو گئے۔ تقریباً پوری رات اس کی تلاش جاری رہی۔ بالآخر اتوار کی صبح لڑکی کی برہنہ اور زخموں سے چ±ور لاش برآمد ہوئی۔ خاندان کا الزام ہے کہ لڑکی کی عصمت دری کے بعد اسے قتل کیا گیا۔ اس معاملے میں پولیس نے اتوار ہی کو خاندان کے ایک رشتہ دار پرہلاد کو گرفتار کر لیا تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ منگل کی علی الصبح واقعے کی ازسرنو تشکیل مکمل کرنے کے بعد واپسی کے دوران ملزم پرہلاد نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔ جب پولیس اسے گاڑی میں تھانے واپس لے جا رہی تھی تو بیدیا باڑی علاقے کے قریب اس نے پیشاب کرنے کے لیے گاڑی روکنے کو کہا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اس نے ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار کی بندوق چھین لی۔ پولیس کے مطابق، ملزم نے یکے بعد دیگرے تین گولیاں چلائیں، جن میں سے ایک گولی پولیس کی گاڑی پر لگی۔
ابتدائی طور پر اچانک پیش آنے والے واقعے کے دوران پولیس اہلکاروں نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔ اس دوران ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا، جبکہ ایک دوسرے اہلکار نے سڑک کے کنارے موجود تالاب میں چھلانگ لگا دی۔ اس کے بعد پولیس نے بھی اپنے دفاع میں چار گولیاں چلائیں، جن میں سے ایک گولی ملزم کو لگی۔ گولی لگنے کے فوراً بعد اسے چاندپاڑا دیہی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ زخمی پولیس اہلکار کا بھی اسی اسپتال میں ابتدائی علاج کیا گیا۔

پولس کو اس کا ہاتھ باندھ کر لے گئی تھی تو پھر اس نے بندوق کیسے چھینی؟انکاﺅنٹر پر متوفی کی ماں کا سوال...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn