Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

گرفتار تین ملزمان کو پولیس نے ننگے بدن اور ننگے پاو¿ں گھمایا! کیا یہ درست ہے، اٹھنے لگے سوالات

Admin
By Admin
Oct 28, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

گرفتار تین ملزمان کو پولیس نے ننگے بدن اور ننگے پاو¿ں گھمایا! کیا یہ درست ہے، اٹھنے لگے سوالات
گرفتار تین ملزمان کو پولیس نے ننگے بدن اور ننگے پاو¿ں گھمایا! کیا یہ درست ہے، اٹھنے لگے سوالات — October 28, 2026
گرفتار تین ملزمان کو پولیس نے ننگے بدن اور ننگے پاو¿ں گھمایا! کیا یہ درست ہے، اٹھنے لگے سوالات
کولکاتا شہر میں تین مردوں کو برہنہ کرکے سڑک پر گھمانے کا الزام سامنے آیا تھا۔ بیہالا کے سرشونا میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پولیس نے تین ملزمان کو ننگے بدن اور ننگے پاو¿ں گھمایا۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کو اس طرح گھمانے کا مقصد واقعے کی ازسرنو تشکیل کرنا تھا۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ریاست کی اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پولیس ایسا کر سکتی ہے؟ اس بات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کہیں تینوں افراد کو برہنہ کرکے گھمانے کے واقعے کی ’سزا‘ دینے کے لیے تو ملزمان کو نیم برہنہ حالت میں نہیں گھمایا گیا۔
13 سالہ لڑکی کو بوسہ دینے کے الزام میں 19 سالہ نوجوان، اس کے والد اور ایک دوسرے دوست کو ملزمان نے ’سزا‘ دی تھی۔ الزام ہے کہ تینوں کو عوامی سڑک پر تقریباً 50 میٹر تک برہنہ حالت میں چلنے پر مجبور کیا گیا۔ نوجوان کے والد کی شکایت کی بنیاد پر پیر کو سرشونا تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔ لڑکی کے والد پردیپ سرکار، ماموں راہل برمن، والدہ رنکو سرکار اور پڑوسی شنکر ساو¿ کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس دیگر ملزمان کی بھی تلاش کر رہی ہے۔
منگل کی صبح پولیس نے سرشونا علاقے میں ہی تینوں ملزمان کو ننگے پاو¿ں اور ننگے بدن گھمایا۔ ان کے ساتھ پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔ تینوں کی کمر میں رسی بندھی ہوئی تھی اور انہوں نے ہاف پینٹ یا برمودا پہن رکھا تھا۔ انہیں دیکھنے کے لیے مقامی لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، ملزمان میں سے ایک لڑکی کا والد، دوسرا اس کا ماموں اور تیسرا گرفتار پڑوسی ہے۔
اس واقعے پر انسانی حقوق کی تنظیم اے پی ڈی آر کے جنرل سکریٹری الطاف احمد نے کہا، ”جو واقعہ پیش آیا، وہ شرمناک ہے۔ کافی دیر تک نوجوان اور اس کے والد کے ساتھ یہ سب ہوتا رہا، لیکن پولیس موقع پر نہیں پہنچی۔ اگر پولیس وقت پر پہنچ جاتی تو یہ واقعہ پیش نہیں آتا۔ اس کے جواب میں پولیس نے کیا کیا؟ ملزمان کو نیم برہنہ کرکے پریڈ کروائی! نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہم یہ رجحان دیکھ رہے ہیں۔“انہوں نے مزید کہا، ”پولیس کے ضابط? کار میں یہ کہاں لکھا ہے؟ کیا بھارتیہ نیائے سنہتا میں ایسا کوئی قانون ہے؟ پولیس کا کام قانون کی حفاظت کرنا اور قانون کے مطابق کام کرنا ہے، نہ کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا۔ یہ پولیس کا کام نہیں ہو سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح جرائم کم نہیں کیے جا سکتے۔ دراصل پولیس اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ وہ تمام قوانین کی خلاف ورزی کرکے سیاسی ہدایات پر عمل کر رہی ہے۔“
تین افراد کو برہنہ کرکے گھمانے کے الزام اور اس کے بعد ملزمان کو ننگے بدن گھمانے، دونوں واقعات کی ممتا ترنمول کے رکن اسمبلی شوبھندیو چٹوپادھیائے نے مذمت کی۔ ان کے مطابق، یہ واقعات ’تہذیب پر بدنما داغ‘ ہیں۔ شوبھندیو نے کہا، ”کیا پولیس کسی کو ننگے بدن اور ننگے پاو¿ں گھما دینے سے اسے جرم کی سزا دے دے گی؟“
قابل ذکر ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی ریاست میں کئی واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ پولیس ملزمان کی کمر میں رسی باندھ کر انہیں ننگے پاو¿ں علاقے میں گھماتی رہی ہے۔ خاص طور پر ریاست میں سیاسی تبدیلی کے بعد مختلف مقدمات میں گرفتار ترنمول رہنماو¿ں کو اس طرح گھمایا گیا تھا۔ تقریباً ہر معاملے میں پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ واقعے کی ازسرنو تشکیل کی جا رہی ہے۔جون میں ایک مفادِ عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران کلکتہ ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا کہ پولیس کسی ملزم کو گرفتار کر سکتی ہے، لیکن اس کے بعد جان بوجھ کر اس کی عزتِ نفس کو مجروح نہیں کر سکتی۔
جسٹس جے سین گپتا اور جسٹس اسمیتا داس ڈے کی ڈویڑن بنچ نے کہا تھا، ”پولیس کسی ملزم کو گرفتار کر سکتی ہے اور قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی بھی کر سکتی ہے۔ جرم ثابت ہونے پر اسے پھانسی بھی دی جا سکتی ہے۔ لیکن گرفتاری کے نام پر جان بوجھ کر ملزمان کی بے عزتی نہیں کی جا سکتی۔“ عدالت نے ریاستی حکومت سے رپورٹ بھی طلب کی تھی۔

گرفتار تین ملزمان کو پولیس نے ننگے بدن اور ننگے پاو¿ں گھمایا! کیا یہ درست ہے، اٹھنے لگے سوالات...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn